Israel: ‘All possible means on the table’ to prevent Iran getting nuclear weaponتصویر سوشل میڈیا

تل ابیب،(اے یو ایس)اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے جمعہ کو میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے کے لیے “تمام ممکنہ ذرائع” میز پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری ایران کی جانب سے جدید ہتھیاروں کی تعیناتی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران اس وقت ڈرونز اور درست رہنمائی والے گولہ بارود سمیت اپنے جدید ہتھیار 50 کے قریب ملکوں کو فروخت کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ مشرقی یورپ میں بیلا روس سے لیے جنوبی امریکہ میں وینزویلا تک کے ممالک کی مثال موجود ہے جن کو تہران ایک ہزار کلومیٹر تک کی رینج والے ڈرون فراہم کرتا دکھائی دیا ہے۔

گیلنٹ نے نشاندہی کی کہ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود سامنے آیا ہے کہ ایران پر میزائل پابندی ابھی بھی برقرار ہے، اس پابندی کی میعاد اس سال ختم ہو جائے گی۔ گیلنٹ نے خبردار کیا کہ “وقت ختم ہو رہا ہے۔”انہوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اس پابندی کا ایک مو¿ثر متبادل تلاش کرے جو ختم ہونے والی ہے اور تحفظ اور سزا کے لیے ایک عملی طریقہ کار کے ساتھ سامنے آئے۔واضح رہے اسرائیل نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کو دہرایا ہے کہ وہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ اسرائیل نے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے مقصد سے مغرب اور ایران کے مذاکرات کی بحالی کی بھی مخالفت کر رکھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *