Japan sends Stern Warning To Chinaتصویر سوشل میڈیا

ٹوکیو: چین جاپان کے درمیان سخت کشیدہ فضا میں گزشتہ ہفتے امریکی بحریہ (یو ایس این) کے ساتھ تربیت کے دوران جاپانی بحریہ کے جنگی جہاز نے ایک مصنوعی ہدف کی طرف میزائل شکن آر ای ایم -162 ایوالوڈ سی اسپیرو (ای ایس ایس ایم ) فائر کیا۔اسے جاپان کی کی جانب سے چین کو سخت وارننگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

ریوکو جزائر اور اوکینوا کے قریب مشرقی بحیرہ چین میں چین کے ساتھ بحری جھڑپ کو طویل عرصے سے، خاص طور پر تائیوان پر چینی فوجی حرکت کے دوران ممکنہ منظر نامے کی شکل سمجھی جارہی ہے۔اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا جاپان اور امریکہ تائی پے کی حمایت میں جوابی کارروائیوں میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں۔ تاہم کسی بھی واحد قوت کے پاس جنگی لحاظ سے برتر چین کے خلاف کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ صرف ایک اجتماعی طات کے پاس پیپلز لبریشن آرمی نیوی (ی ایل اے این) اور آئی پی ایل ایئر فورس (پی ایل اے اے ایف) کو سخت چیلنج کرنے کی صلاحیت ہے۔

تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ جاپانی سمندری خود حفاظتی دستہ میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس (جے ایم ایس ڈی ای) جے ایس سوزوسکی ڈسٹرائر نے عمودی لانچ سائلو (وی ایل ایس ) سے ایک میزائل چھوڑا ہے۔ سمندری خود حفاظتی دستہ کے جنگی جہازوں کو امریکی بحریہ (یو ایس این ) کے جہازوں کو لازمی فضائی دفاع فراہم کرنے والے مشترکہ بیڑے کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *