Mekdad: Damascus agreed with Riyadh to provide all facilities to reopen embassiesتصویر سوشل میڈیا

جدہ(اے یو ایس ) عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر جدہ میں شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے تصدیق کی کہ ان کا ملک کسی بھی عرب سربراہی اجلاس سے غیر حاضر نہیں رہ سکتا۔شامی وزیر کے یہ الفاظ ”العربیہ“ کے ایک سوال کے جواب میں سامنے آئے۔ انہوں نے شامی صدر بشار الاسد کی جمعہ کو ہونے والی تقریبات میں شرکت کے امکان کا عندیہ بھی دیا۔ المقداد نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے دوران یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں ملکوں کی قیادتوں نے تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا ملک سعودی عرب کے ساتھ ریاض اور دمشق میں سفارتخانے دوبارہ کھولنے کے لیے تمام سہولیات فراہم کرے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کی صدارت کے مشیر برائے وزرا کونسل عبدالقادر عزوز نے توقع ظاہر کی تھی کہ صدر بشار الاسد جمعہ کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اس وقت عزوز نے اس بات پر زور دیا کہ شام ہمیشہ سے ان ممالک میں سے ایک رہا ہے جو صدر کی سطح پر عرب لیگ کے سربراہی اجلاسوں اور اجلاسوں میں شرکت کے لیے سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شام بلاشبہ خطے کے عوام کے لیے استحکام، امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے عرب بھائیوں کی تمام کوششوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا شام، سعودی عرب اور مصر مسائل اور تنازعات کے ساتھ ساتھ خطے میں پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنے کے حوالے سے اہم مراکز ہیں۔

انہوں نے کہا یہ معاملہ بات چیت اور قومی مفاہمت کے ساتھ سیاسی حل کے امکانات پر اہم اثر ڈالے گا۔وزرا کونسل کی شامی صدارت کے مشیر نے بھی شام کو عربوں میں واپس لانے میں سعودی عرب کے کردار کے بارے میں بتایا اور کہا کہ دمشق سعودی عرب کی طرف سے اپنی پوزیشن بحال کرنے اور اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں پر اظہار اطمینان کرتا ہے۔واضح رے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے عرب لیگ کی سربراہی اجلاس کی سطح کے بتیسویں اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔ یہ اجلاس 19 مئی کو جدہ میں منعقد ہو رہا ہے۔ چند روز قبل سعودی وزارت خارجہ نے شام میں سعودی عرب کے سفارتی مشن کا کام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *