کابل:امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر پاکستان چاہے تو امارت اسلامیہ پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرے گی۔ مجاہد نے مزید کہا کہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ ہم ثالثی کریں، اور ہم جانتے ہیں کہ یہ فائدہ مند ہے، تو ہم بلاشبہ ثالثی کریں گے کیونکہ اس سے خطے کو فائدہ ہو گا اور ہم خطے میں جنگ نہیں چاہتے۔ انہوں نے سر زمین افغانستان پر ٹی ٹی پی کے وجود کی بھی تردید کی اور کہا کہ امارت اسلامیہ افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
مجاہد نے کہاکہ ہمارا ٹی ٹی پی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم نہ تو ان کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ہیں بلکہ اس کے برعکس ہم انہیں افغانستان میں سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔سرور نیازئی نام کے ایک عسکری تجربہ کار نے کہا کہ اگر امارت اسلامیہ پاکستان کی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی شروع کرتی ہے، تو یہ ایک اچھا اشارہ ہو گا۔عسکری تجزیہ کار اسد اللہ ندیم نے کہا۔
پاکستان حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان اگر کوئی فریق ثالثی کرتا ہے تو وہ طالبان کے علاوہ کوئی دوسرا گروپ نہیں ہے۔اس سے قبل ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی حکام اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک بار پھر زور دیا جا رہا ہے کیونکہ مبینہ طور پر قبائلی عمائدین کے ایک وفد نے ٹی ٹی پی کے سربراہ سے ملاقات کی۔اگرچہ فریقین کی جانب سے اس کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی لیکن ذرائع نے دعویٰ کیا کہ قبائلی وفد نے حال ہی میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود سے ملاقات کی جو ان کوششوں کا حصہ تھی جو گزشتہ سال نومبر میں منسوخ ہو نے والے مذاکرات کی بحالی کے امکانات تلاش کرنے کی جارہی ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا