اسلام آباد:پاکستان نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں سرگرم ہے اور اس کی سرزمین پر اس کی نشوونما ہو رہی ہے نیز وہ وہاں سے پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں لگے ہیں ۔ اس ضمن میںملک کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔پاکستانی ٹی وی چینل آج نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ثنا اللہ نے موجودہ افغان حکومت سے کہا کہ اس نے پوری دنیا سے جو وعدے کیے ہیں ان پر قائم رہے۔وہ غلطی پر ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی سیکورٹی اہلکار اور ہمارے فوجی افسران روزانہ مارے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محفوظ پناہ گاہ وہاں (افغانستان) ہے یہاں نہیں۔ وہاں سے وہ منصوبہ بنا کر تین سے پانچ لوگوں کے گروپ کو یہ کارروائی کرنے کے لیے یہاں بھیجتے ہیں۔ اس سلسلے میں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔اسلامی امارات کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے وزیر داخلہ کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ سرزمین افغانستان کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔مجاہد نے مزید کہا کہ ہم ٹی ٹی پی سے وابستہ لوگوں کو اجازت نہیں دیتے اور یہ پاکستان کے اندرونی اور ان کے اپنے مسائل ہیں۔ انہیں پاکستان میں سیکورٹی کو یقینی بنانا چا ہئے اور جب وہ مختلف کارروائیاں کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، تو وہ اس مسئلے کو افغانستان سے جوڑ کر عوام کی توجہ ہٹاتے اور گمراہ کرتے ہیں۔ پاکستان کی فوج کی جانب سے اس تشویش کے اظہار کے بعد کہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں مل گئی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے ایسی کوئی علامت نہیں دیکھی کہ پاکستان یا اس سرحد کے ساتھ افغان مہاجرین دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایک عسکری امور کے ماہر اسداللہ ندیم نے کہا کہ بلا شبہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں مضبوط اور فعال موجودگی ہے لیکن طالبان کا ان پر اس حد تک اثر و رسوخ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کے بعد پاکستان کی سرزمین پر اپنی کارروائیوں کو روکنے میں کامیاب رہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز پاکستان نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے ژوب میں حالیہ دہشت گردی کے حملے میں زخمی ہونے والے فوجیوں سے ملاقات کے دوران بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا ایک اور اہم تشویش ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے مو¿ثر جواب دیں گے۔ لیکن امارت اسلامیہ نے ہمیشہ ایسے دعووں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 