واشنگٹن: ہندوستان نے اقوام متحدہ میں کہا ہے کہ آج بین الاقوامی ادارے کے امن مشن کی سیکورٹی کا منظر نامہ زیادہ پیچیدہ، پرتشدد اور خطرناک ہے اور اس طرح کے مشن کو ہمیشہ کے لیے کہیں بھی موجود نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے امن کیپنگ آپریشنز کو کہا کہ باہر نکلنے کی حکمت عملی شروع سے ہی منصوبوں کا حصہ ہونی چاہیے۔ کمبوج نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں کہا کہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ کے مشن کو ہمیشہ کے لیے کسی جگہ نہیں رہنا چاہیے۔
باہر نکلنے کی حکمت عملی شروع سے ہی منصوبوں کا حصہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فائدے کے لیے غیر ضروری مشنز جاری رکھنے پر دوسرے اہم مشنوں سے ضروری وسائل کو ان میں لگانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس طرح کے مشنوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ ہندوستان سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے امن مشن میں پیش پیش رہا ہے۔ 2,60,000 ہندوستانیوں نے دنیا بھر میں 49 مشنوں میں امن دستوں کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ ہندوستان کے پاس 14 میں سے 9 جاری مشنوں میں 6000 سے زیادہ امن فوجی ہیں۔ کمبوج نے کہا کہ آج امن کی کارروائیوں کے لیے سکیورٹی کا منظرنامہ زیادہ پیچیدہ، زیادہ پرتشدد، زیادہ جوکھم بھرا ہے۔
دہشت گرد اور مسلح گروہ عام شہریوں اور امن فوجیوں کو اپنے ہدف کے طور پر دیکھتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ مسلح گروہ تقریبا تمام روایتی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں اور اس لیے یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ امن دستوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میزبان ممالک میں سکیورٹی کا مضبوط نظام اور قانون کی حکمرانی شہریوں کو دہشت گردوں اور مسلح گروہوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور امن و ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتی ہے۔ کمبوج نے کہا کہ مشن کی تاثیر کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 