واشنگٹن:(اے یو ایس) یوکرین کے لیے امریکی امدادی پیکجوں کے نہ رکنے کے باوجود صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے نمائندوں نے انکشاف کیا کہ پینٹاگان کو ویمپائر ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو مخصوص جاسوسی اور سٹرائیک سسٹم فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے گزشتہ سال اگست میں اس قسم کے ہتھیار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔وال ا سٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق جدید سسٹمز کیلئے پینٹاگان نے اسی سال دسمبر میں مینوفیکچرنگ کمپنی ایل تھری ہیرس ٹیکنالوجیزکے ساتھ معاہد ہ کیا ہے تاہم معاہدے کا حجم تقریباً 40 ملین ڈالر ہے جو کافی نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ 4 ویمپائر کمپلیکس یوکرین کو چھ ماہ کے اندر یعنی اس سال کے وسط میں یوکرین کو فراہم کرے گا۔ اسی قسم کے مزید 10 سسٹمز 2023 کے آخر تک کیف کو مل جائیں گے۔ ویمپائر سسٹمز اور ایک الگ ماڈیولر وہیکل میزائل کٹ ملکر ایک مکمل کمپلیکس ہے جس میں بال کنٹرول سینسر اور چار چھوٹے میزائلوں کے لیے ایک لانچر ہے۔ سسٹم کے ڈویلپرز کے مطابق ویمپائر سسٹم صرف دو گھنٹے میں گاڑی کے پلیٹ فارم پر انسٹال ہو جاتا ہے۔
اسے ایک شخص کے ذریعے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اس ہتھیار سے لیس میزائل فضائی اور زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔واضح رہے یوکرینی جنگی کوششوں کے لیے امریکی امداد کی مالیت حال ہی میں اربوں ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی ٹریڑری نے مہینوں پہلے اعلان کیا تھا کہ امریکی امداد بنیادی حکومتی کارروائیوں میں مدد فراہم کرے گی، یوکرین کے عوام کی تکالیف کو کم کرنے میں مدد کرے گی اور یوکرین کی مزاحمت کو مضبوط کرے گی۔
تصویر سوشل میڈیا