ریاض(اے یو ایس)نجی اور سرکاری شعبوں کے درمیان تعاون اشیا کی بلا تعطل ترسیل و فراہمی کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح سرحدوں کے آر پار بھی اسی نوعیت کے روابط بہت اہم ہیں۔اس امر کا اظہار سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری نے جمعرات کے روز ورلڈ اکنامک فورم کے پینل میں بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا خلیجی ریاست انفراسٹرکچر اور کاروباری مقامات پر کم لاگت اور کم رسک کی سرمایہ کاری کو ترغیبات دیتا ہے۔ مملکت نے سرمایہ کاروں کے لیے خود کو کھول دیا ہے۔ڈیووس کے اس پینل میں عالمی سطح پر بلا تعطل، پائیدار اور جامع ترقی کے لیے ویلیو چینز کو تبدیل کرنے کے طریقوں پر باہم تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر سرمایہ کاری نے سعودی عرب کے سپلائی چین سے متعلق انیشیٹو کی طرف اشارہ کیا۔ یہ آغاز پچھلے سال اکتوبر میں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا مملکت نے کس طرح متعدد کاروباری مراکز کے عالمی سسٹم سے خود کو جوڑا ہے۔
سعودی وزیر نے کہا ‘یہ کاروباری مراکز اور ملک ہماری سرزمین پر کثیر الجہت قسم کے مواقع اور ہمارے دنیا بھر میں تعلقات سے فائدہ اتھا رہے ہیں۔خالد الفالح نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں بروئے کار تجارتی حکمت عملی کے نکات میں کاروباری لاگتوں کو کم سے کم رکھنا اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے فراخ دلانہ آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنا شامل ہے۔حتیٰ کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران جب عالمی سطح پر افراط زر جاری ہے اس کے باوجود سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے 2023 کے لیے معاشی ترقی کے اہداف مقرر کیے ہیں۔معاشی میدان میں مملکت اس وقت قیادت کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے جائزے کے مطابق سعودی عرب 2023 میں امکانی ترقی میں آگے ہو گا۔ جبکہ 2022 میں بھی سعودی آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔
تصویر سوشل میڈیا