Saudi leadership keen on protecting children from all forms of abuseتصویر سوشل میڈیا

ریاض:(اے یو ایس ) سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے اس بات پر زور دیا ہے بچے کواعلیٰ حقوق اوراعلیٰ تعزیری و قانونی ضمانتیں حاصل ہیں، جو اس کے خاندان کے ایک لازمی جزو، اپنے ملک کی نشاةثانیہ کی تعمیر کے لیے ایک فرد اور اس کے معاشرے کی ترقی میں ایک فعال حصہ دار کے طور پر اس کی پرورش میں معاون ہیں۔پراسیکیوشن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹویٹر‘ پر اپنے آفیشل اکاو¿نٹ کے ذریعہ ایک بیان میں کہا کہ کسی بچے کو خاندانی بندھن کے بغیر رکھنا، اس کی شناختی دستاویزات نہ نکالنا، روکنا یا انہیں چھپانا، اس کی صحت سے متعلق ضروری ویکسینیشن مکمل نہ کرنا، اس کی پڑھائی چھوڑنے کے عمل کا باعث بننا یا تعلیم کو نظرانداز کرنا، ایسے ماحول میں رہنا جہاں اسے خطرہ لاحق ہو، اس کے ساتھ بدسلوکی کرنا، جنسی طور پر ہراساں کرنا یا اس کا جنسی استحصال کرنا قابل سزا جرم تصور کیے جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بچے کا مالی طور پر جرم میں، یا بھیک مانگنے میں اس کا استعمال کرنا اور ایسے نازیبا الفاظ کا استعمال جو اس کے وقار کو مجروح کرتے ہیں یا اس کی تذلیل کا باعث بنتے ہیں۔ اسے ایسے مناظر دکھانا جو غیر اخلاقی، مجرمانہ یا اس کی عمر کے لیے نامناسب اور کسی بھی نسلی، سماجی یا معاشی وجہ سے اس کے ساتھ امتیازی سلوک، اور غفلت برتنا، اسے قانونی عمر سے کم گاڑی چلانے کی اجازت دینا اور کوئی بھی ایسی چیز جس سے اس کی جسمانی یا نفسیاتی حفاظت کو خطرہ ہو یا صحت کے متاثر ہونے کا ڈر ہو اور اس کی تعلیم وتربیت میں کوتاہی کا مظاہرہ کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔ مذکورہ بالا جرائم کا ارتکاب کرنے والے خاندان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔قبل ازیںسعودی اٹارنی جنرل سعود المعجب نے اتوار کو بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے چائلڈ افیئر یونٹ افتتاح کیا جس کا مقصد بچوں کو ان کے تمام حقوق حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

یاد رہے بچوں کا عالمی دن ہر سال 20 نومبر کو منایا جاتا ہے۔اس یونٹ کا مقصد بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ہے۔ ایسے معاملات جن میں بچہ متاثرین میں شامل ہو میں قانونی طریقہ کار کے اطلاق کی حکمرانی قائم کرنا، سماجی اور فلاحی طریقہ کار کی تصدیق کرنا ، متعلقہ حکام کے تعاون سے بچوں کے لیے ایک محفوظ سماجی ماحول فراہم کرنا یونٹ کے مقاصد میں شامل ہے۔المعجب نے کہا کہ قیادت نے معاشرے کے تحفظ اور استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے پر بہت توجہ دی ہے اور ہر اس چیز سے نمٹا ہے جو خاندان کے استحکام کو متاثر کرے اور اس کے ارکان کو نقصان پہنچائے۔ بچوں کو مختلف قسم کی بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ بدسلوکی، نظراندازی، امتیازی سلوک اور استحصال سے پاک ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ بچہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں فروغ دے سکے۔دریں اثنا پبلک پراسیکیوشن نے متعدد متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے مستقبل کے رہنما کے عنوان سے ایک سماجی تقریب کا انعقاد کیا جس میں بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *