تل ابیب (اے یو ایس ) عمر عیسیٰ اپنے آبائی وطن سوڈان میں ہونے والے پرتشدد تنازعے کو شدید خوف و ہراس کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔سوڈان جتنا زیادہ انتشار اور تشدد میں ڈوبے گا، انہیں ڈر ہے کہ ان کے لیے اسرائیل میں ایک غیر تسلیم شدہ ،پناہ کے متلاشی کے طور پر رہنے کا امکان بڑھ جائے گا، جہاں انہیں بہت محدود حقوق حاصل ہیں۔اسرائیل میں عیسی جیسے تارکین وطن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کی موجودہ سخت گیر حکومت، عدالتی اصلاحات کے متنازعہ منصوبے پر آگے بڑھتی ہے تو ان کے حقوق کو زیادہ خطرہ لاحق ہو جائے گا۔اگر یہ منصوبہ اپنی اصل شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو ایسے قانونی اقدامات کا باعث بن سکتا ہے جو تارکین وطن کی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل میں ان کے قیام کو مشکل بنا دے گا۔”میرا دل وہاں ہے۔ میرا دماغ وہیں ہے۔ صرف میرا جسم یہاں ہے،” 31 سالہ عیسی نے کہا، جو 2012 میں جنگ زدہ علاقے دارفور سے جان بچا کے نکلے تھے۔ “عدالتی اصلاحات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو پیش کرنے کی ایک بڑی وجہ اسرائیل میں بڑھتے ہوئے تارکین وطن ہیں۔افریقی تارکین وطن، خاص طور پر سوڈان اور اریٹیریا سے، مصر کے ساتھ غیر محفوظ سرحد کے ذریعے 2005 میں اسرائیل پہنچنا شروع ہوئے۔
اسرائیل نے ابتدا میں ان کی آمد پر آنکھیں بند کر لیں اور بہت سے لوگوں نے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں معمولی ملازمتیں شروع کر دیں۔ لیکن جیسے ہی ان کی تعداد بڑھ کر 60,000 تک پہنچ گئی، نئے آنے والوں کو نکالنے کا مطالبہ بڑھنے لگا۔اسرائیلی وزارت داخلہ کے مطابق، برسوں کی کوششوں کے بعد، اب ان کی تعداد تقریباً 25,000 ہے۔عیسی ان ہزاروں سوڈانی مہاجرین میں سے ایک ہیں جو اسرائیل میں غیر یقینی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسرائیل بہت کم سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو قبول کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ انہیں رکھنے کی کوئی قانونی ذمہ داری نہیں ہے۔سوڈانی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی بات اس وقت سامنے آئی تھی جب اسرائیل اور سوڈان نے 2020 میں تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن سوڈان کی صورتحال نے اس معاہدے پر پیش رفت کو سست کر دیا ہے۔سوڈان میں گزشتہ ماہ دو متحارب جرنیلوں کی وفادار افواج کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جس نے قوم کو ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں۔اسرائیل میں عیسی اور ان جیسے دیگر سوڈانی پناہ گزینوں کو سوڈان میں اپنے پیاروں سے فون پر رابطے کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔اسرائیل میں افریقی تارکین وطن کا کہنا ہے کہ وہ پناہ کے متلاشی ہیں جو اپنی جان بچا کر نکلے اور واپسی پر بھی انہیں خطرہ ہے۔ تاہم اسرائیل کے عدالتی نظام کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث وہ تشویش میں مبتلا ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت، اسرائیل تارکین وطن کو زبردستی کسی ایسے ملک میں واپس نہیں بھیج سکتا جہاں ان کی جان یا آزادی کو خطرہ ہو۔تاہم ، اسرائیل نے مختلف حربے استعمال کر کے ان کی زندگیوں کو مزید مشکل بنا دیا گیا ہے، مثلا انہیں دور دراز صحرائی جیلوں میں نظربند کرنے سے لے کر ان کی اجرت کا کچھ حصہ روکنا اور ملک چھوڑنے پر رضامندی کے بعد ہی انہیں رقم فراہم کرنا۔ پناہ کی ہزاروں درخواستوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا اور ان لوگوں کو نقد ادائیگی کی پیشکش کی ہے جو افریقہ میں کسی تیسرے ملک جانے پر راضی ہیں۔اس کے علاوہ اسرائیل نے پناہ گزینوں کی آمد روکنے کے لیے مصر کے ساتھ سرحد پر ایک رکاوٹ بھی بنائی ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ مغربی ممالک میں ہزاروں تارکین وطن کو دوبارہ آباد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ایسے دیگر جنہیں اسرائیل میں رہنے کی اجازت دی گئی اس کو پناہ گزین مخالف کارکنوں اور سخت گیر قانون سازوں کے دباو¿ میں آ کر فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔سپریم کورٹ نے ان کوششوں میں سے کچھ کو روکنے کا حکم دیا ہے، کچھ غیر آئینی سمجھے جانے والے پناہ گزین مخالف قوانین کو ختم کیا گیا ہے، جن میں ان کی حراست اور ان کی تنخواہوں سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ ان فیصلوں نے تارکین وطن کے مسئلے کو عدالتی اصلاحات کے حامیوں کے لیے ایک ہنگامہ خیز شکوہ بنا دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلوں سے تجاوز کیا ہے۔
مارچ میں، شدید دباؤ کے پیش نظر عدالتی اصلاحات کو روکنے سے پہلے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی پناہ گزینوں کا حوالہ دیا۔عدالتی اصلاحات کا منصوبہ سپریم کورٹ کو کمزور کر دے گا اور حکومتی فیصلوں پر عدالتی نگرانی کو محدود کر دے گا۔اگر یہ اپنی مجوزہ شکل میں آگے بڑھتا ہے، تو حکومت ان قوانین کو دوبارہ نافذ کر سکتی ہے جنہیں عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا یا نئے قوانین بن سکتے ہیں اور ان پر آئندہ عدالتی فیصلوں کو زیر کر سکتے ہیں۔ایک انسانی حقوق گروپ، ہاٹ لائن فار مائیگرنٹ ورکرز کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر، سگل روزن نے کہا کہ اگر منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو تارکین وطن کو “بہت زیادہ خطرے” کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک کمزور سپریم کورٹ اس مجوزہ قانون کی راہ میں حائل نہیں ہو سکے گی جس کی منصوبہ بندی ایک الٹرا نیشنلسٹ اتحاد کے رکن نے کی ہے جو تارکین وطن کو غیر معینہ مدت تک قید کرنا، ان کی تنخواہ کا کچھ حصہ روکنا اور اسرائیل کے اندر ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگانا چاہتا ہے۔
مہاجرین کی موجودگی نے ملک کو طویل عرصے سے تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل، ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہولوکاسٹ کی راکھ پر رکھی گئی ہے اور اس طرح یہودی پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔مخالفین کا دعویٰ ہے کہ تارکین وطن کم آمدنی والے جنوبی تل ابیب کے محلوں میں جرائم میں اضافےکا باعث بنے ہیں۔کچھ اسرائیلی سیاست دانوں نے ان پر دراندازی کا لیبل لگایا ہے، ایک نے انہیں “ایک کینسر” قرار دیا ہے جو ملک کے یہودی تشخص کے لیے خطرہ ہے۔عدالتی اصلاحات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ تارکین وطن کی موجودگی سے پیدا ہونے والے مسائل سے غافل ہے۔”ہماری امیگریشن پالیسیوں کا فیصلہ کرنا عدالت کا کردار نہیں ہے،” شیفی پاز، ایک معروف پناہ گزین مخالف کارکن نے کہا۔انہوں نے کہا کہ سوڈان میں لڑائی سے اس پر اختلاف کم نہیں ہوا۔سوڈان سے فرار ہونے کے بعد سے، عیسی اسرائیل میں بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں مصری افواج نے انہیں اس وقت گولی مار دی جب وہ اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں اسرائیلی جیل میں نظر بند کیا گیا اور رہائی کے بعد اب وہ ڈیلیوری مین کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔وہ پرامید ہیں کہ اسرائیل ایک دن انہیں مناسب حقوق اور ملک بدری کے خلاف انشورنس پالیسی کے ساتھ پناہ گزین کے طور پر تسلیم کر لے گا۔”مجھے امید ہے کہ وہ… لوگوں کو عزت کے ساتھ جینے دیں گے،” انہوں نے روانی سے عبرانی میں بات کرتے ہوئے کہا۔ “اور ہمیں امید ہے کہ امن قائم ہو گا۔
تصویر سوشل میڈیا 