لندن:(اے یو ایس ) برطانیہ اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔برطانیہ نے روس کے سینئر فوجی کمانڈروں کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف بھی نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ایران پر الزام ہے کہ اس نے یوکرین کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون بنائے اور روس کو فراہم کیے۔ یورپی پابندیوں سے ایک روز قبل ایران نے بھی اعلیٰ برطانوی اور جرمن عہدہ داروں پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے یہ اقدام ان ملکوں کی جانب سے اس کے خلاف متوقع نئی پابندیاں عائد ہونے پہلے کیا۔
ایران کی پابندیوں کی فہرست میں برطانیہ کے داخلی جاسوس ایجنسی ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر جنرل کین میک کیلم اور چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف ایڈمرل سر ٹونی راڈاکن کا نام شامل ہے۔
ایجنسی فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا کہ 12 روسی اعلیٰ افسران کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اوران پر سفری پابندیاں عائد ہوں گی۔اس سے ایک روز پہلےایجنسی فرانس پریس نے بتایا تھا کہ ایران نے بروسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل 32 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔ جس کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ یورپی یونین ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت پکڑ دھکڑ اور احتجاج کرنے والوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کے ردعمل میں ایران کے خلاف اپنی اضافی پابندیاں عائد کریں گے۔
ایران پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے روس کو بم برسانے والے ڈرون فراہم کیے تھے جسے وہ یوکرین میں عوام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ایران نے پیر کو برطانیہ کی داخلی جاسوسی ایجنسی اور فوج کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور جرمنی کے سیاسی شخصیات پر بھی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔
تصویر سوشل میڈیا 