واشنگٹن(اے یو ایس ) درجنوں خفیہ امریکی دستاویزات کے آن لائن لیک ہونے کے بعد ان میں موجود حساس معلومات انٹرنیٹ پر سرعام دستیاب ہیں جن سے یوکرین کی جنگ کی مفصل تصویر اور چین اور مغربی اتحادیوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔پینٹاگون کے حکام کے مطابق یہ دستاویزات اصلی ہیں اور بی بی سی سمیت کئی خبر رساں اداروں نے چند دستاویزات کا جائزہ لیا ہے جس کی بنیاد پر اہم نکات سامنے لائے جا رہے ہیں۔پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات کی مدد سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ روس کے خلاف جنگ میں مغربی فوج کی سپیشل فورسز زمین پر یوکرین کی مدد کر رہی ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد برطانوی سپیشل فورسز کی ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ایک سال سے یہ موضوع افواہوں کا مرکز تھا تاہم اب مغربی سپیشل فورسز کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پینٹاگون کی لیک ہونے والی دستاویزات میں سے ایک کے مطابق، جس پر 23 مارچ کی تاریخ درج ہے، یوکرین میں مغربی ممالک کی سپیشل فورسز موجود ہے۔اس رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ سپیشل فورسز کے فوجی یوکرین کی کس طرح مدد کر رہے ہیں اور کس مقام پر موجود ہیں تاہم ان کی تعداد کے بارے میں ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سپیشل فورسز کے فوجیوں میں سب سے زیادہ تعداد برطانوی فوجیوں کی ہے (50) جبکہ لیٹویا کے 17، فرانس کے 15، 14 امریکی اور نیدرلینڈز کی سپیشل فورسز سے تعلق رکھنے والا ایک فوجی یوکرین میں موجود ہے۔مغربی حکومتیں عام طور پر ایسے حساس معاملات پر بیان دینے سے گریز کرتے ہیں تاہم امکان ہے کہ روس اس معاملے کا فائدہ اٹھائے گا جو حالیہ مہینوں میں اصرار کرتا رہا ہے کہ اس مقابلہ صرف یوکرین سے نہیں بلکہ نیٹو سے بھی ہے۔دیگر دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یوکرین فوج کے درجنوں نئے بریگیڈ ایک نئے حملے کے لیے تیار کیے جا رہے تھے تو ان کو مغربی اتحادیوں نے کس طرح ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور توپ خانے سے لیس کیا۔انھی دستاویزات میں مشرقی یوکرین میں بہار کے موسم میں زمینی حقائق کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مطابق فروری کی ایک دستاویز میں یوکرین کے جوابی حملے کی کامیابی کے امکانات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ناکافی فوج کی وجہ سے زیادہ رقبے پر قبضہ نہیں کیا جا سکے گا۔ان دستاویزات میں یوکرین کے فضاعی دفاع میں پیش آنے والی مشکلات کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ فروری میں تنبیہ کی گئی کہ یوکرین کے پاس اہم میزائل کم پڑ رہے ہیں۔ان دستاویزات سے جنگ میں ہلاکتوں سے متلعق مغربی اعداد وشمار کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ایک سلائیڈ پر درج ہے کہ روس کے دو لاکھ 23 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ یوکرین کے ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 31 ہزار بتائی گئی ہے۔دوسری جانب چند یوکرینی حکام نے ان لیکس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ روس کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ تاہم یوکرین میں مایوسی اور غصے کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔یوکرینی صدر کے ایک مشیر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہمیں لیکس پر کم سے کم غور کرنا چاہیے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں پر غور کرنا چاہیے تاکہ جنگ کو ختم کیا جا سکے۔‘
تصویر سوشل میڈیا