UN says its female staffers banned from working in Afghanistanتصویر سوشل میڈیا

اقوام متحدہ (اے یو ایس ) اقوام متحدہ کے مشن نے کل منگل کو اعلان کیا ہے کہ اس کی افغان خواتین ملازمین کو مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے، جس کے بعد طالبان حکام کو یاد دلایا گیا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ خواتین کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے ’ٹویٹر‘ پر ٹویٹ کیا کہ “افغانستان میں اقوام متحدہ اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی افغان خواتین ملازمین کو صوبہ ننگرہار میں کام پر آنے سے روکا گیا ہے اور یہ اقدام باعث تشویش ہے”۔مشن نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “ہم ڈی فیکٹو حکام کو یاد دلاتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ادارے اپنی خواتین کے عملے کے بغیر اپنا کام نہیں کر سکتے اور اہم مدد فراہم نہیں کر سکتے۔”خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے ایک سوال کے جواب میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اشارہ دیا کہ وہ اس بارے میں معلومات لے رہے ہیں کہ کیا ہوا؟۔

چوبیس دسمبر 2022 کو طالبان حکومت کی وزارت اقتصادیات نے اعلان کیا کہ ملک میں کام کرنے والی 1,260 غیر سرکاری تنظیموں پر افغان خواتین کے ساتھ تعاون کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کیونکہ حجاب پہننے، جسم اور سرڈھانپنے کی پابندی سے متعلق “سنگین شکایات” ہیں لیکن اقوام متحدہ کو اس فیصلے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ روزا اوتون بائیفا نے افغان خواتین کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا تھا “ہمیں خدشہ ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی مقامی خواتین کے عملے کو بھی روکا جائے گا۔”پابندی کے جاری ہونے کے بعد کئی غیر سرکاری تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صرف جنوری کے وسط میں انہیں اپنی خواتین کی ٹیموں کے تعاون سے کچھ علاقوں میں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔یہ پابندیاں شروع میں اقوام متحدہ اور کچھ دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر لاگو نہیں ہوئیں۔ جنوری میں اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے ان خدشات کا حوالہ دیا کہ اگلی بار حکام بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنے والی افغان خواتین کے کام کو محدود کر سکتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان تحریک نے اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کی آزادیوں اور بنیادی حقوق کو بہت حد تک محدود کر دیا تھا۔ بچیوں کو سیکنڈری سکولوں اور یونیورسٹیوں میں جانے سے بھی روک دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *