واشنگٹن،(اے یو ایس )صدر جو بائیڈن اور ان کے جنوبی کوریا کے ہم منصب یون سک یول نے شمالی کوریا کو انتباہ کیا ہے کہ اگر پیانگ یانگ اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے تو اسے جوہری ردعمل اور وہاں کی قیادت کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔اوول آفس میں بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے، دونوں رہنماو¿ں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کے جارحانہ میزائل تجربات کے پیش نظر جنوبی کوریا کے لیے امریکی سیکیورٹی شیلڈ کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ “شمالی کوریا کے جوہری حملے کی صورت میں، واشنگٹن اور سیول نے، امریکی جوہری ہتھیاروں سمیت اتحاد کی پوری طاقت کے استعمال کے ساتھ فوری، بھاری اور فیصلہ کن جواب دینے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر بائیڈن اور جنوبی کوریا کے درمیان معاہدے کو واشنگٹن اعلامیہ کا نام دیا گیا ہے جو میں جنوبی کوریا کو امریکی جوہری چھتری کا تحفظ مہیا کیا گیا ہے۔امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کے بدلے میں کہ شمالی کوریا کی جانب سے نیوکلیئر حملے کی صورت میں امریکی ہنگامی منصوبہ مندی میں جنوبی کوریا کو فیصلہ سازی میں زیادہ کردار دیا جائے گا۔ سیول نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے نہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا بدھ کو صدر جو بائیڈن اور ان کے جنوبی کوریا کے ہم منصب صدر یون سک یول کی وائٹ ہاو¿س میں ملاقات کے موقع پر اس معاہدے کا اعلان کر رہے ہیں۔جنوبی کوریا کے رہنما دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کا جشن منا نے اور دونوں اتحادیوں کے درمیان مستقبل کے تعلقات پر بات کرنے کے لیے واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کئی مہینوں کے دوران طے پانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے اور جمہوریہ کوریا کے لیے امریکی ” ڈیٹرنس“ کے وعدوں کا اعادہ کرے گا۔
تصویر سوشل میڈیا 