US urges UN to condemn North Korea; China, Russia blame USتصویر سوشل میڈیا

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شمالی کوریا کے غیر قانونی بیلسٹک میزائل تجربات کی مذمت کرنے کی درخواست کی ہے۔ لیکن چین اور روس کا کہنا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کو نشانہ بنانے والی فوجی مشقیں بڑھا کر تنا و¿بڑھارہا ہے۔ امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے پیر کو ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کونسل سے کہا کہ وہ امریکہ شمالی کوریا سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی قراردادوں کی تعمیل کرنے اور “بامعنی بات چیت میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہوئے ایک صدارتی بیان جاری کرنے کی تجویز پیش کرے گا ۔

تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ کونسل کے تمام 15 ارکان کو شمالی کوریا کے بے مثال میزائل تجربات کی مذمت کرنی چاہیے۔ سلامتی کونسل کے کسی بھی صدارتی بیان پر تمام اراکین کا متفق ہونا ضروری ہے۔ جبکہ سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے قریبی اتحادی چین اور روس بھی شامل ہیں۔ تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کی جانب سے ہفتے کے روز بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اور پھر پیر کو دو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کے لیے “سخت ترین الفاظ میں” مذمت کرتا ہے۔

یہ کونسل کی جانب سے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات پر پابندی کی “سخت خلاف ورزی” ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ تجربات اور شمالی کوریا کی دھمکی آمیز بیان بازی بین الاقوامی امن اور سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ تاہم شمالی کوریا کے قریبی ممالک چین اور روس نے پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شمالی کوریا اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان بات چیت شروع کرنے، فوجی مشقیں کم کرنے، شمالی کوریا پر عائد پابندیوں میں نرمی اور کوریا ئی جزیرہ نما کی صورتحال کو بہتر کرنے کے مقصد سے نومبر 2021 میں اس کی طرف سے پیش کردہ تجویز کو منظور کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے نائب سفیر ڈائی بنگ نے کہا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی وسیع مشترکہ فوجی مشقیں، امریکی سٹریٹجک آلات کی تعیناتی، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ کے دو ہفتے قبل جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے “انتہائی اشتعال انگیز ” ہیں اور ان سب نے عدم تحفظ کے احساس کو ہوا دی ہے۔ روس کے نائب سفیر دمتری پولیانسکی نے کونسل کو بتایا کہ شمالی کوریا میزائل تجربات کے ذریعہ “امریکہ کی قیادت میں ہو رہے بے مثال فوجی مشقوں کا جواب دے رہا ہے ، جو واضح طور پر شمالی کوریا کو نشانہ بنا کر کئے جارہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *