بیجنگ:چین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری امارت اسلامیہ کی حوصلہ افزائی کر کے اسے ایک جامع حکومت بنانے کی ترغیب دے۔اس ضمن میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے خطے کے ممالک میں افغانستان کے معاملے پر زیادہ اتفاق رائے پیدا ہوگا۔ ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کی نگراں حکومت کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ نیز افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے کوششوں کی حمایت کریں اور اسے ایک جامع اور اعتدال پسند عناصر پر مشتمل لحکومت بنانے، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی ترغیب دے۔ قطر میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین نے نگراں حکومت کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے رابطہ استوار کرنے کے حوالے سے چین کے نقطہ نظر کا خیرمقدم کیا ہے۔
شاہین نے اس حوالے سے کہا کہ ہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ دنیا کے ممالک کو امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ رابطہ اور بات چیت کرنی چاہیے۔سیاسی امور کے ماہر نور اللہ راگھی کے مطابق چین اپنی معیشت پر مبنی پالیسیوں اور ون بیلٹ ون روڈ سپر پراجیکٹ کے نفاذ کے مطابق علاقائی سطح پر سیکورٹی فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔چینیوں کی رائے ہے کہ وہ پاکستان کے تعاون سے طالبان کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔سیاسی امور کے ماہر بلال فاطمی نے کہا کہ وہ افغان مسئلے کی وجہ سے دنیا اور خطے میں اپنی تمام اقدار کو کھونا نہیں چاہتے۔ افغانستان ان کے لیے اہم ہے اور وہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یونیورسٹی کے پروفیسر سید جواد سجادی نے کہا کہ اسلام آبا اجلاس دوحہ اجلاس کے عین مطابق ہوگی۔ اس ملاقات میں طالبان حکومت کا مستقبل اور افغانستان کے مستقبل کے وڑن کو واضح کیا جائے گا۔اسی دوران افغانستان کے لیے چین کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ چین کا اسلامی امارت کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ افغانستان کے لیے چین کے خصوصی نمائندے یو شیانگ نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان کی موجودہ اور مستقبل کی تعمیر نو کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کیونکہ امریکہ کے 20 سالہ فوجی قبضے نے اس ملک میں بڑے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ہم، بہت سے اتحادی اور ہمخیال ممالک کے ساتھ، امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں منجمد اثاثے جاری کرے۔ “اس کے ساتھ ساتھ، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار پر عمل کرنے کی امریکی پالیسی کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی پاکستانی حکام سے سیاسی تعلقات، تجارت، علاقائی استحکام اور راہداری پر بات کرنے کے لیے آج (جمعہ) پاکستان روانہ ہو رہے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 