اسلام آباد ،( اے یو ایس ) اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے منگل کو پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزرا بشمول شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر اور شفت محمود کو پاکستان تحریک انصاف کے سنہ 2014 کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ ہاو¿س اور ریاست کے زیر انتظام چلنے والے ٹیلی ویڑن، پی ٹی وی، پر حملے کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔بری ہونے والوں میں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان جہانگیر ترین اور علیم خان بھی شامل ہیں۔
جج محمد علی وڑائچ کی عدالت میں دورانِ سماعت استغاثہ نے ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر کوئی مخالفت نہیں کی۔خیال رہے کہ پارلیمنٹ حملہ کیس کا مقدمہ 30 اگست 2014 کو تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کیا گیا تھا۔ اس کیس کی گذشتہ سماعت پر صدر عارف علوی نے اپنے صدارتی استثنیٰ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ان کے اور پی ٹی آئی رہنماو¿ں کے خلاف سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی صدر مملکت عدالت میں پیش ہوا ہو کیونکہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو اس ضمن میں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اور جب تک کوئی شخص جو اس عہدے پر فائز ہے، اس کے خلاف فوجداری مقدمات میں عدالت میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔
تصویر سوشل میڈیا 