'Islamophobia' is itself problematic : Kunwar Khuldune Shahid Muslims

لندن : دا ڈیپلومیٹ کا نمائندے کنور خودونے شاہد نے کہا ہے کہ ’اسلامو فوبیا‘ بذات خود مسئلہ ہے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں پر نہیں اسلام کی طرف ذہن چلا جاتاہے۔عالم اسلام میں مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت مسلمانوں کو ظلم و ستم سے بچانے سے زیادہ نقادوں اور مخالفین سے اسلام کو بچانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس ضمن میں کنور شاہد نے دا ڈیموکریسی فورم(ٹی ڈی ایف) کے زیر اہتمام ” کیا مسلمانوں کے تئیں امتیازی سلوک پر پاکستان کا شور شرابہ صحیح ہے“ کے عنوان سے 25مئی کو لندن میں منعقد ایک ویبنار میں پاکستان کی مثال دی کہ چین میں ایغور مسلمانوں پر جو مظالم توڑے جارہے ہیں اور ان سے جو بےرحمانہ سلوک کیا جا رہا ہے اس پر پاکستان خاموش ہے۔بلاشبہ اسلامو فوبیا کی اصطلاح چین کی کمیونسٹ پارٹی کی، جو ایغوروں کو تربیتی کیمپوں میں قید کیے ہے، بہ نسبت فرانس کے طنز نگار چارلی ہیبدو پبلیکیشن کے حوالے سے زیادہ استعمال کی گئی۔

شاہد کا کہنا ہے کہ کس طرح عالمی اسلاموفوبیا کی گردان کرنے والے ا س پر بحث کرنے میں ناکام رہے او ر کس طرح ترقی پسندوں نے اختلاف رکھنے والوں کو عالم اسلام میں اسلام پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسے منتخب کیا۔شاہد نے پاکستان کے خوفناک توہین مذہب قوانین کو ،جو ہتھیار کا روپ دھار چکے ہیں، اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مکمل طور پر باشعور لوگوں کو اسلام سے خوفزدہ کر دیا۔ کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلام پر تنقید کرنے والوں کو موت کی یا قید کی سزا نہیں دی جاتی۔

شاہد نے مزید کہا کہ کسی اسلامی یا مسلم ملک میںمسلمانوں سے ایسی بدسلوکی نہیں کی جاتی جیسی پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔ صرف چین کو ایغوروں کے ساتھ بدسلوکی کے باعث پاکستان جیسا کہا جاسکتا ہے۔ شاہد نے سوال کیا کہ جب خود پاکستان کا یہ حال ہے اور وہ خود اپنے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے تو اسے مذہبی تفریق کے بارے میں کچھ کہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں ہے اور یہ عالم اسلام پر اثر انداز ہونے والے مہلک مرض کی چھوٹی شکل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *