Making sense of Pakistan's Islamophobia syndrome

سارے وسائل کو اپنے تصرف میں لینے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے پاکستان کا منظم انداز میں مذہب کا استعمال 25مئی کو دا ڈیموکریسی فورم(ٹی ڈی ایف) کے زیر اہتمام ” اسلام مخالفت سے متعلق پاکستان کی مریضانہ نفسیات کی تفہیم“کے عنوان سےمنعقد ویبنار کا کلیدی موضوع بحث تھا۔ اس ویبینار میں اسلامو فوبیا کی تعریف و تشریح ، تصور اور ندرون پاکستان اور بیرون ملک اس کی تشہیر کرنا جیسے معاملات پر اظہار خیال کرنے کے لیے ماہرین نے شرکت کی۔

پروگرام کی غرض و غایت بتاتے ہوئے اپنے تمہیدی کلمات میں ٹی ڈی ایف کے صدر لارڈ بروس نے کہا کہ یہ ویبنار اسلام مخالفت کے متضاد نقطہ نظر یات و افکار پر ،جو ریاست پاکستان کی تشریح کرنے کے لیے ہیں، پر غور و خوض کرنے اور سمجھنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں مذہبی رواداری کے تقدس کے حوالے سے ، سابق وزیر اعظم عمران خان اور بانی پاکستان محمد علی جناح کے دعوؤں کا ذکر کرتے ہوئے لارڈ بروس نے کہا کہ جناح نے جس مذہبی تنوع اور مذہبی رواداری کے بنیادی اصولوں کا ذکر کیا تھاپاکستان میں اس کی جڑوں کی آبیاری یا انہیں پنپنے کا کبھی موقع ہی نہیں دیا گیا۔ بلکہ ریاست نے اقلیتی برادریوں و فرقوں کی بیخ کنی اور ر ذیلی صوبوں کی سلامتی کو کمزور کرنے کے لیے دیدہ دانستہ منقسمانہ سیاسی حکمت عملی کے تحت عدم رواداری و عدم برداشت کو فروغ دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک اقلیتی برادریوں کے ساتھ کیسی بدسلوکی ہوتی رہی ہے اور پاکستان کی ہر حکومت نے مختلف مسلم فرقوں و مسالک کے درمیان کس طرح طبقاتی تصادم کرائے۔ جس سے شیعہ سنی اختلافات بے انتہا بڑھ گئے ۔ذیلی ریاستی قوم پرستی بھی کینسر کی طرح پھیل گئی اور وفاقی حکومت اور بلوچستان و شمال مغربی سرحدی صوبے کے درمیان رشتے کس قدر سرطان زدہ ہو گئے۔

نیوکلیائی فزیسسٹ اور سماجی کارکن ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے اس پر اصرار کیا کہ اسلام مخالفت اور مسلم تعصب دونوں کو علیحدہ کرنا اہم ہے مسلمانوں کے تئیں تفریق اور ان سے بدسلوکی اس حد تک نہیں بڑھے گی کہ اسلام ہدف تنقید بن جائے۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل دین ہے جبکہ مسلمان بحیثیت انسان نامکمل ہو سکتا ہے۔ ایران اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں اسلام پر تنقید کے خلاف احتجاج ہوتا ہے لیکن اسی انداز میں پاکستان میں نہیں ہوتا جہاں صرف چارلی ہیبدو جیسے معاملات پر پر تشدد ردعمل کی شکل میں فساد ہونے لگتے ہیں۔ ہود بھائی نے کہا کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ پاکستان سیاسی طاقت کے حصول اور سماج میں ہر فرد سے خود کو تسلیم کرانے کے لیے مذہب کا بڑے منظم انداز میں استعمال کرتا ہے۔ تعلیمی نصاب میں وسیع پیمانے پر باتیں توڑ مروڑ کر پیش کی جاتی ہیں جس کے باعث مشتعل لوگ یہ سنتے ہی کہ توہین اسلام ہوئی ہے فوری ردعمل ظاہر کرنے سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔

دا ڈیپلومیٹ کا نمائندے کنور خودونے شاہد نے یہ دلیل دی کہ ’اسلامو فوبیا‘ بذات خود مسئلہ ہے۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں پر نہیں اسلام کی طرف ذہن چلا جاتاہے۔عالم اسلام میں مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت مسلمانوں کو ظلم و ستم سے بچانے سے زیادہ نقادوں اور مخالفین سے اسلام کو بچانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کی مثال دی کہ چین میں ایغور مسلمانوں پر جو مظالم توڑے جارہے ہیں اور ان سے جو بےرحمانہ سلوک کیا جا رہا ہے اس پر پاکستان خاموش ہے۔بلاشبہ اسلامو فوبیا کی اصطلاح چین کی کمیونسٹ پارٹی کی، جو ایغوروں کو تربیتی کیمپوں میں قید کیے ہے، بہ نسبت فرانس کے طنز نگار چارلی ہیبدو پبلیکیشن کے حوالے سے زیادہ استعمال کی گئی۔ شاہد کا کہنا ہے کہ کس طرح عالمی اسلاموفوبیا کی گردان کرنے والے ا س پر بحث کرنے میں ناکام رہے او ر کس طرح ترقی پسندوں نے اختلاف رکھنے والوں کو عالم اسلام میں اسلام پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسے منتخب کیا۔شاہد نے پاکستان کے خوفناک توہین مذہب قوانین کو ،جو ہتھیار کا روپ دھار چکے ہیں، اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مکمل طور پر باشعور لوگوں کو اسلام سے خوفزدہ کر دیا۔ کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلام پر تنقید کرنے والوں کو موت کی یا قید کی سزا نہیں دی جاتی۔شاہد نے مزید کہا کہ کسی اسلامی یا مسلم ملک میںمسلمانوں سے ایسی بدسلوکی نہیں کی جاتی جیسی پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔ صرف چین کو ایغوروں کے ساتھ بدسلوکی کے باعث پاکستان جیسا کہا جاسکتا ہے۔ شاہد نے سوال کیا کہ جب خود پاکستان کا یہ حال ہے اور وہ خود اپنے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے تو اسے مذہبی تفریق کے بارے میں کچھ کہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں ہے اور یہ عالم اسلام پر اثر انداز ہونے والے مہلک مرض کی چھوٹی شکل ہے۔

احمدیہ مسلم برادری یو کے کے خارجہ امور کے قومی سکریٹری فرید احمد نے اپنے بیش قیمت خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں احمدی مسلمانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اس امر کے مظہر ہیں کہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کی اپیلیں( اس سال مارچ میں اقوام متحدہ کی قرار داد کی منظوری میںپاکستان ایک کلیدی کردار تھا) خود پاکستان کے اپنے خراب ریکارڈ سے کس طرح بے اثر رہیں جس سے مختلف طریقوں سے نقصان پہنچا۔ فرید احمد نے جہاں ایک طرف نفرت کم کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی پاکستان کی اپیل کا خیر مقدم کیا وہیں اس امر پر بھی زور دیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک اپنے جذباتی و ذہنی باطن کامشاہدہ کرنے کی جانب جھکے اور فعال قیادت کرے۔آخر بین الاقوامی مذہبی منافرت ختم کرنے کی اپیلیں کرتے ہوئے اندرون ملک سزاو¿ں کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ فرید احمد نے اس ضمن میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی پریشانیوں اور دشواریوں کو زبردست مثال بتایا ۔ اور اس ضمن میں احمدیہ فرقہ کو ، جو” گود سے گور تک“ ہر سطح پر امتیازی سلوک کے شکار ہوتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر اور ستم رسیدہ بتایا۔احمد نے مزید کہا کہ جب ایک مذہبی فرقہ کو ہدف بنا کر اسے مذہبی اور سماجی حقوق سے محروم کرنے والے وفاقی قوانین بنائے جائیں گے تو اس سے پاکستان کا وہ کاز جس کا وہ سمندر پار چمپین بننا چاہتا ہے ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا۔بہتر یہ ہوگا کہ پاکستان پہلے اپنا گھر سدھارے اور عملی طور پر یہ دکھائے کہ اسلام کا کیا مطلب اور مقصد ہے اور وہ امن چاہتا ہے فساد کو پسند نہیں کرتا ۔انہوں نے اپنی بات کا لب لباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بذات خود اسلامو فوبیا اور دنیا بھر میں ہر قسم کی مذہبی منافرت کو چیلنج کرنے کا بہترین ذریعہ ہوگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *