Ukraine, Russia trade blame over nuclear plant shellingتصویر سوشل میڈیا

ماسکو:(اے یو ایس ) روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر جنوبی یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول جوہری پاور پلانٹ کی حدود میں گولہ باری کے الزامات لگائے۔رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایٹمی ٹیکنالوجی کے نگران ادارے جس کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم بھی پلانٹ میں موجود ہے نے کہا کہ پلانٹ کی حدود میں ہفتے اور اتوار کے روز طاقتور دھماکے ہوئے تھے۔یہ یوکرین میں موجود روس کے زیر قبضہ یورپ کا سب سے بڑا جوہری پاور پلانٹ ہے۔روسی فوج نے اپنے یک بیان میں کہا کہ یوکرین اپنی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جن کا مقصد نیوکلیئر پاور پلانٹ میں بڑی تباہی کے سنگین خطرات اور خدشات پیدا کرنا ہے۔

روسی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گولہ باری کے باوجود تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔روسی فوج نے کہا کہ فائر کیے گئے میزائل پلانٹ کی ان پاور لائنوں کے قریب پھٹے جو چوتھے اور پانچویں پاور یونٹ اور “خصوصی عمارت نمبر 2 کو سپلائی فراہم کرتی ہیں۔روسی نیوکلیئر ایجنسی روساٹوم کے مشیر نے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کو بتایا کہ خصوصی عمارت میں جوہری ایندھن موجود ہے۔روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرین نے پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے والی لائنوں پر شیلنگ کی۔

دوسری جانب، یوکرین کی جوہری توانائی کے ادارے انرگوٹوم نے روسی فوج پر یوکرین کی بجلی فراہمی کو مزید محدود کرنے کے لیے پلانٹ کے ضروری انفراسٹرکچر پر گولہ باری کا الزام لگایا۔اپنے ایک جاری بیان میں ادارے نے کہا کہ اتوار کی صبح متعدد روس کی جانب سے کی گئی گولہ بار ی میں جوہری پاور پلانٹ کی حدود میں کم از کم 12 گولے گرے۔اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے عالمی جوہری توانائی ادارے( آئی اے ای اے )کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ ہفتے کی شام اور اتوار کے روز ہونے والے ایک درجن سے زیادہ دھماکوں نے یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پاور پلانٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔آئی اے ای اے کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس طرح کے حملوں سے بڑی جوہری تباہی کا خطرہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *