کابل: امارت اسلامیہ کے نگراں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا کہ دنیا کی جانب سے امارت اسلامیہ کو تسلیم نہ کرنے کی اصل اور واحد وجہ یہ کہ امارت اسلامیہ نے ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا۔
حقانی نے دورہ پکتیا کے دوران مذہبی اسکالرز، علمائے کرام اور مشائخ و نسلی بزرگوں سے ملاقات کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آزادی کسی اور کے ہاتھ میں تھی اور آج وہ ہمیں پہچانتے تک نہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم ان کے احکام کو نہیں مانتے، ہم نے ان کے مطالبات نہیں مانے، آخری سانس تک ہم نے ان کی ایک بات بھی نہیں مانی۔ ہم پر نہ صرف وجی چڑھائی کی گئی بلکہ بلکہ ایک نظریاتی حملہ، ایک اقتصادی حملہ، اور ایک ثقافتی حملہ بھی کیا گیا۔
حقانی نے کہا کہ انہوں نے(حملہ آوروں ) ہر قبیلے اور قوم میں مکار اور چھل فریب سے کام لینے والے عناصر پیدا کیے ہیں تاکہ کوئی سچ نہ بول سکے۔ اجتماع میں شریک قبائلی عمائدین اور علما نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے عوام کی حمایت اہم ہے ۔ قبائلی عمائدین میں سے ایک ابراہیم نے کہا کہ یہ افغانوں کا مشترکہ گھر ہے اور افغان ان کی حفاظت کریں گے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت کو تسلیم کرانے کے لیے عالمی برادری کی جائز خواہشات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے اور طالبان نے اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی۔
ایک سیاسی تجزیہ کار وحید فقیری نے کہا کہ انہوں نے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے طالبان کو تسلیم کرنے میں عار محسوس کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی برادری طویل عرصہ سے بارہا بین افغان مذاکرات ، انسانی حقوق اص طور سے حقوق نسواں کا معاملہ اٹھاتی رہی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا