Intl community yet to define inclusive govt: Islamic Emirateتصویر سوشل میڈیا

کابل: ناروے سے واپسی کے بعد قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ عالمی برادری نے ابھی تک افغانستان میں ایک جامع حکومت کی واضح تعریف نہیں کی۔ امیر خان متقی اگرچہ موجودہ حکومت کو جامع سمجھتے ہیں جس میں تمام نسلی گہوں کی نمائندگی ہے اور ایسی حکومت تشکیل دینے کی کوشش جو تمام لوگوں کو مطمئن کر سکے تاہم یہ بھی کہا کہ ابھی امارت اسلامیہ کی کابینہ کی مکمل تشکیل نہیں کی گئی ہے۔ متقی کے مطابق بین الاقوامی برادری افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام کے سلسلے میں بہانے تلاش کر رہی ہے۔

امیر خان متقی نے کہاکہ عالمی برادری کے پاس جامع حکومت کی نہ تو کوئی تعریف ہے اور نہ ہی کوئی مثال وہ موجودہ حکومت کو جامع نہیں سمجھتے اور ان کا مطالبہ سیاسی حیلے بہانے ہیں ۔ متقی نے کہا کہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا نظام سو فیصد مکمل ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ تاہم اسے مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بات صرف اتنی ہے کہ ہم نے سابقہ حکومت کے کسی عہدیدار کو اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا ور نہ ہی کوئی حکومتی عہدہ دیا جو کہ دنیا بھر میں حکومتی تبدیلی کے بعد کی روایت رہی ہے۔

اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے متقی نے معلوم کیا کہ کیا جو بائیڈن نے امریکہ کی کسی صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کے ایڈمنسٹریشن کے کسی عہدیدارکا اپنے انتظامیہ میں تقرر کیا؟واضح ہو کہ اسلامی امارات اگست کے وسط میں مغرب کی حمایت یافتہ غنی حکومت کے گرنے پر بر سر اقتدار آئی تھی۔دریں اثنا، افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے تھامس نیکلاسن نے قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی کے ریمارکس کے جواب میں کہا کہ ایک جامع حکومت کا تعین کرنا عالمی برادری کا کام نہیں ہے۔

مسٹر نکلسن نے ٹویٹ کیا کہ یہ افغانوں کا فرض ہے کہ وہ ایک جامع حکومت قائم کریں، جو انہیں ایک شفاف عمل کے ذریعے کرنا ہے۔افغانستان سائنٹفک اینڈ سوشل ایسوسی ایشن کے صدر سید ہارون پچا نے کہا کہ جامع کا مطلب ہر قوم کے تمام کیڈرز ہیں، نہ کہ کسی ایک قوم کی نمائندگی س۔اب ہم جو موجودہ کابینہ دیکھ رہے ہیں اس میں قندھار کی نمائندگیہے یا حقانی نیٹ ورک سے لوگ شامل کیے گئے ہیں واضح ہو کہ افغانستان میں امارت اسلامیہ کو دوبارہ اقتدار میں آئے پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اسے ابھی تک عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک نے حکومتی عہدوں پر تمام نسلی گروہوں اور خواتین کی شرکت کو اسلامی امارت کو تسلیم کرنے کی اہم شرائط قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *