قیف: (اے یو ایس ) چوبیس فروری کو روسی حملے کے آغاز سے اب تک یوکرین سے رپورٹنگ کرتے ہوئے دو یوکرینی اور تین غیر ملکی صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ بات پیر کے روز ‘رپورٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز’ نے بتائی ہے۔ ایک بیان میں صحافیوں کی تنظیم نے روسی اور یوکرینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں ذرائع ابلاغ کے ارکان کے تحفظ کی ضمانت دیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ “صحافیوں پر حملہ جنگی جرم ہے۔دریں اثنا انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روس پر یوکرین کے بندرگاہ کے شہر ماریوپول میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے یہ الزام جوہانسبرگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران لگایا۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیم بحیرہ ازوف کے شہر پر روس کے حملے سے ہونے والی تباہی کے بارے میں جلد ہی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرے گی۔ادھر ایشیائی ملک جاپان اگلے ماہ سے یوکرین پر روسی حملے کے ردعمل کے طور پر روس کو لگژری اشیا کی برآمدات پر پابندی عائد کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے جاپان کی وزارتِ اقتصادیات، تجارت اور صنعت کے ایک بیان کے حوالے سے کہا کہ جاپان کا یہ اقدام5 اپریل سے نافذ العمل ہو گا۔ممنوعہ اشیاءمیں لگڑری کاریں، موٹر سائیکلیں، شراب، کاسمیٹکس، فیشن آئٹمز اور فن پارے شامل ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 