کابل:افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے امارت اسلامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے لیے علمائے کرام کے مطالبے کا جو انہوں نے افغان دانشوروں کے قومی مذاکرات کے عنوان سے گذشتہ ہفتہ منعقد اجتماع میں کیا تھا ، احترام کرے۔ مذہبی علماءنے کہا کہ درجہ ششم سے اوپر کی جماعتوں کی پڑھائی کرنے کے لیے لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔مسٹر کرزئی نے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ افغان علما کی مرضی دراصل افغان عوام کی مرضی ہے۔ صدر کرزئی کے قریبی مشیر شہزادہ مسعود نے کہا کہ صدر حامد کرزئی کی اپیل افغانستان کے عوام کی اپیل ہے۔
تعلیم، خاص طور پر خواتین کی تعلیم، خواتین کا انسانی اور اسلامی حق ہے۔ ادھر افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے ٹامس نکلسن نے چھٹی جماعت میں لڑکیوں کے ا سکول جانے پر پابندی کی مذمت کی ہے۔دوسری جانب ملک کے بعض دیگر مذہبی اسکالرز نے 15 شقوں پر مشتمل فتویٰ میں کہا ہے کہ اسلامی قانون کے دائرہ کار میں لڑکیوں کے اسکول جانے پر کوئی ممانعت نہیں ہے۔ایک مذہبی اسکالر رومی واحد احمد نے کہا: “خواتین کی تعلیم کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
وزارت تعلیم کے ترجمان نے کہا کہ درجہ ششم سے اوپر کے اسکول کو دوبارہ کھولنے کا تعلق امارت اسلامیہ کی قیادت سے ہے۔ اور جس روزبھی امارت اسلامیہ کی قیادت ساتویں سے بارہویں جماعت کے لڑکیوں کے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا حکم دے گی ہم اسی دن اسکول دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ افغانستان فیوچر تھاٹ فورم کی سربراہ فاطمہ گیلانی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لڑکیوں کے اسکول جلد کھل جائیں گے کیونکہ ہر گذرتا دن ان کی زندگی کا ایک قیمتی لمحہ ضائع کر رہا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 