کابل: امارت اسلامیہ کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے بدھ کے روز بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں کے دوران ملک کے 10 سے زائد صوبوں میں طوفانی بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے تقریباً 20 افراد ہلاک اور 30 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے امور سے متعلق نائب وزیر مولوی شرف الدین مسلم نے کہا کہ سیلاب سے درجنوں مکانات تباہ اور تقریباً 100 مویشیوں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے مزید کہا زبردست بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کی وجہ سے 20 افراد ہلاک اور 30 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ دو افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ 100 سے زیادہ مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے اور 100 رہائش گاہیں تباہ ہو گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے قندھار، ہلمند، ہرات، بدخشاں، تخار، پروان، قندوز، میدان وردک، بغلان، فاریاب اور جوزجان صوبے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم اس سیلاب سے بغلان ، پروان اور بادغیس حالیہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب زدگان نے موجودہ افغان حکومت سے انہیں ضروری امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔” پروان کے رہائشی عبدالمالک نے کہا کہ میرے دو بچے لاپتہ ہیں۔ میری بیوی اور بیٹی کیچڑ میں پڑے ہیں۔ 100 مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
پروان کے ڈپٹی گورنر محمد ادریس انوری نے کہا کہ 10 رہائش گاہیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں، اور کئی دیگر کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب میں کئی لوگوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ قبل ازیں، افغانستان کے محکمہ موسمیات نے اطلاع دی تھی کہ کم از کم 27 صوبوں میں شدید بارشیں ہوں گی۔محکمہ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں بارش 20 سے 60 ملی میٹر کے درمیان ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 