کابل: امارت اسلامیہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) میں افغانستان کی شمولیت کو سود مند بتایا۔ اس ضمن میں وزارت اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سی پیک میں افغانستان کی شرکت افغانستان کی معیشت کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔وزارت چاہتی ہے کہ چین اور پاکستان افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری میں تعاون کریں۔وزارت اقتصادیات کے نائب وزیر عبداللطیف نظری نے کہا کہ چین پاکستان راہداری منصوبہ خطے میں چین کے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے ان منصوبوں میں افغانستان کی شرکت افغانستان کی نقل و حرکت، متحرک اور اقتصادی ترقی کا باعث بنے گی۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ افغانستان کی چین سے تجارت میں فروغ کے لیے سی پیک کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔بعض تاجروں کا خیال ہے کہ افغانستان اور چین کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے افغانستان کو اقتصادی راہداری سے منسلک کیا جانا چاہیے اور اس طرح تاجر اپنی ضرورت کی اشیا برآمد کر سکتے ہیں۔ایک تاجر محبوب اللہ محمدی نے کہا کہ سی پیک ، جس کی رسائی بڑی منڈیوں تک ہے، ہمارے ملک کی برآمدات کے لیے ایک بہترین موقع پیدا کر سکتا ہے۔یہ بات اس لیے کہی جا رہی ہے کیونکہ چین ، افغانستان اور پاکستان کے وزرا خارجہ اقتصادیات، تجارت ،زراعت ،غربت میں کمی اور عوام تا عوام تبادلوں کو مستحکم کرنے پر متفق ہو گئے۔کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین افغانستان کو سی پیک منصوبے میں شریک بنانا چاہتے ہیں۔بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے اقتصادی منصوبوں میں افغانستان کی موجودگی ملک کے لیے فائدہ مند ہے۔
اقتصادی امور کے ماہر میر شکیب میر نے کہا کہ بڑے اقتصادی اور علاقائی پراجکٹوں میں افغانستان کی موجودگی روزگار، تجارتی تبادلے میں اضافے اور مجموعی طور پر معاشی سدھار کے لیے مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔دوسری جانب قائم مقام وزیرخارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان خطے کے ممالک کو ملانے خصوصاً جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا سے ملانے اور تجارتی سامان کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔چین نے سی پیک میں 40 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ اس راہداری کے ذریعے خطے کے ممالک کے ساتھ اپنی تجارت کو بڑھانا چاہتا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا