Airport employee seeks permission to come by donkey cart to office as petrol price hike in Pakistanتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے جی کا جنجال بن گئی ہیں۔ اب وہی مسائل شہباز حکومت کے سامنے چیلنج بن کر کھڑے ہیں، جس کی وجہ سے عمران کو کرسی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ حال ہی میں شہباز حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کیا جو عوام کے لیے بڑا دھچکا ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ کے ایک ملازم نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) کے سامنے عجیب و غریب مطالبہ کر دیا۔ ملازم کا مطالبہ ہے کہ اسے گدھے پر سوار ہو کر دفتر آنے کی اجازت دی جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی سی اے اے کو لکھے گئے خط میں آصف اقبال نے کہا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ان کے لیے اپنے ٹرانسپورٹ سے دفتر آنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس نے گدھا گاڑی دفتر لانے کی اجازت مانگی ہے۔ اقبال نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود اتھارٹی نے ٹرانسپورٹ کی سہولت بند کر رکھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پٹرول الاؤنس اور پک اینڈ ڈراپ سروس دونوں بند کر دی گئی ہیں۔تاہم سی اے اے کے ترجمان نے ملازم کے اس مطالبے کو محض میڈیا کا ا سٹنٹ قرار دیا ہے۔ ترجمان نے گدھا گاڑی کی بجائے اسلام آباد راولپنڈی میٹرو چلانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط صرف میڈیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ پاکستان میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پٹرول کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 60 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

جمعرات کو شہباز حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا۔نئی قیمتوں کے مطابق اب پاکستان میںپٹرول 209.86 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 204.15 روپے، مٹی کا تیل 181.95 روپے اور لائٹ ڈیزل 178.31 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے تیل کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کیا ہے جب کہ بھارت نے تیل کی قیمت میں 25 روپے کمی کی ہے۔ یہ ایک آزاد اور غلام ملک کے درمیان فیصلہ سازی میں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *