طالبان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے لیے برطانوی ناظم الامور رابرٹ چارٹرٹن ڈکسن نے امارت اسلامیہ کے نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی نے سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ برطانیہ کو افغانستان کی حکمران حکومت کے ساتھ تعمیری روابط رکھنے پر وزیر متقی نے کہا کہ برطانیہ کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیاں میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر وضع نہیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے برطانیہ سے یہ بھی کہا کہ وہ طالبان کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کے طور پر عملی رویہ اختیار کرے۔
برطانیہ نے کونسل کے اجلاسوں میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں، خاص طور پر خواتین کے حقوق کی پامالی نے طالبان کو تنہا کر دیا ہے۔ جون میں اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر کی تنقیدی رپورٹ کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندے نے کہا تھا کہ اگر طالبان خواتین اور لڑکیوں پر ظلم کرتے رہے تو انہیں عالمی برادری تسلیم نہیں کرے گی۔
باربرا ووڈورڈ نے زور دیا کہ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو طالبان کے خلاف پابندیاں برقرار رہیں گی اور ترقیاتی امداد کو بھی جو ابھی جاری ہیں روک دیا جائے گا۔ متقی نے مطالبہ کیا کہ طالبان کو برطانیہ میں واقع افغان سفارت خانے تک رسائی حاصل کرنے دیں نیز اس امید کا بھی اظہار کیا کہ برطانیہ میں مقیم افغانوں کے مسائل کے حل کے لیے لندن میں افغان قونصل خانہ جلد کھلے گا۔
تصویر سوشل میڈیا 