تہران: ایران نے ایک فرانسیسی طنزیہ جریدے شارلی ابدو میں اپنے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر فرانس کو انتباہ دیاہے کہ وہ اس کا بنہایت سخت جواب دے گا۔ ہفت روزہ نے اسی دن درجنوں کارٹون شائع کیے تھے جن میں ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی شخصیت کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ مذہبی اور سیاسی اتھارٹی کے خلاف کارٹون شائع کرنے میں ایک فرانسیسی اشاعت کی توہین آمیز اور غیر مہذب حرکت مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل کے بغیر نہیں جائے گی، “ایران کے وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے ٹویٹ کیا کہ ایرانی مذہبی و سیاسی مجتہد کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ہر گز برداشت نہیں کر کیا جائے گا نیز فرانسیسی حکومت کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
انہوں نے یقیناً غلط راہ کا انتخاب کیا ہے۔ جریدے کے مطابق یہ کارٹون اس مقابلے کا حصہ تھے جو اس نے گزشتہ ماہ ایرانی کرد دوشیزہ مہسا امینی کی،جسے خواتین کے لیے ملک کے سخت لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، پولس حراست میں 16 ستمبر کو ہونے والی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کی حمایت اور مظاہرین سے اظہار یکجہتی میں کرایا تھا۔ فرانسیسی میگزین نے کہا کہ اس مقابلے کا مقصد ایرانیوں کی، جو اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، جدوجہد کی حمایت کرنا ہے۔چارلی ہیبڈو نے یہ توہین آمیز خاکے 7 جنوری 2015 کو پیرس میں اپنے دفتر پر ہونے والے مہلک حملے کی برسی کے موقع پر ایک خصوصی ایڈیشن میں شائع کیے تھے۔واضح ہو کہ کارٹونوں، رودادوں، مباحثوں اور لطیفوں پر مشتمل شارلی ابدو ہفت روزہ جریدہ سخت مذہب مخالف اور بائیں بازو سے تعلق رکھتا ہے اور مذہبی شدت پسندی، کیتھولک ازم، اسلام، یہودیت، سیاست، ثقافت وغیرہ سے متعلق مضامین شائع کرتا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 