ماسکو:چین نے ،جو مکاری میں دنیا میں سب سے آگے رہے والے ملکوں کا سرغنہ اور ہمیشہ اپنے فائدے اور دوسرے ملکوں کو نقصان پہنچانے میں لگا رہتا ہے اور ہر غیر قانونی کام کرتا ہے۔اپنے دوست روس کو بھی نہیں بخشا اور ہیکرز کی مدد سے اس کی پشت میں بھی چھرا گھونپ دیا ۔ واضح ہو کہ چین دشمن کی جاسوسی توکرتا ہی ہے لیکن وہ اپنے دوست ملکوں کو بھی نہیں چھوڑتا۔ چین نے کچھ ایسا ہی حال یوکرین سے جنگ میں الجھے روس کا بھی کیا ہے اور پیٹھ پیچھے و ار کیا ہے۔ دراصل چینی ہیکروں نے روسی سائبر سکیورٹی کے شعبے میں دفاع سے متعلق اعداد و شمار کوچرانے کی کوشش کی، لگاتار ناکامی ملنے کے باوجود چینی ہیکر روسی ڈفینس سسٹم کے ڈیٹا کو چرانے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔
چین کے سرکاری ہیکروں نے روس کے دفاعی شعبے سے جڑے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ادارے سے جڑے انجینئروں اور سائنس دانوں کو روس کے وزارت صحت کی طرف سے کچھ ای میل بھیجے، اس میل کا مقصد تھا ‘یوکرین پر حملے کرنے کیلئے امریکی پابندیوں کے تحت افراد کی فہرست’۔لیکن جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ ایسی حساس معلومات سے متعلق جب بھی کوئی معلومات مانگی جاتی ہیں تو اسے ہی نہیں دے دیا جاتا بلکہ اس متعلقہ محکمے سے دوسرے ذرائع سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اس محکمے نے ایسی میل بھیجی ہے اس کی تصدیق ہونے کے بعد ہی آگے کی کارروائی کی جاتی ہے۔ایسے میں تحقیقات کے بعد پایا گیا کہ روس کی وزارت صحت سے ایسی کوئی جانکاری نہیں مانگی گئی ہے۔ جب اس کی آگے مزید جانچ کی گئی تب یہ بات سامنے آئی کہ یہ کام تو چین کے سرکاری ہیکروں کا ہے جو روس سے جانکاری اکٹھا کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔چین اپنے پڑوسی دوست ملک کی شکل میں ان اداروں پر حملے کر رہا ہے جو انتہائی حساس ہیں۔ حال ہی میں چین نے روس کے ائر بورن سیٹلائٹس کمیونیکیشن اور ریڈار اور الیکٹرانک جنگی مہارت سے متعلق ہے۔
چین اس طرح کے چھدم حملے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کئی مغربی ممالک کے خلاف بھی کرچکا ہے۔ چین اب یہ حملے اپنے بہترین دوست ملک روس کے خلاف بھی کر رہا ہے۔اس سے اندازہ یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ چین اپنا بھروسہ اپنے دوست ملکوں پر سے کھو دیا ہے۔ دفاع سے متعلق تکنیک کی چوری کرنا اور دفاع سے متعلق ڈیٹا کی جاسوسی کرنے میں چین کو مہارت حاصل ہے۔چین لمبے وقت سے ایسا کرتا آیاہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس نے اپنے سب سے قریبی دوست روس کو بھی نہیں بخشا، وہ بھی اس وقت جب روس جنگ میں مصروف ہے۔ جس روس جس نے سرد جنگ کے دور میں چین کی ہر لحاظ سے بہت مدد کی تھی۔کچھ رپورٹس کے مطابق چین نے سائبر ہیکرز کو کرائے پر لیکر یوکرین جنگ کا استعمال اپنے سائبر حملوں کے لئے کردیا ہے، یعنی یوزروں کو ایسے لنک اور ایسے دستاویز بھیجے جارہے ہیں جن کا تعلق یوکرین جنگ سے ہے۔
انجینئروں کو یوکرین پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ کی جانب سے بلیک لسٹ میں دالے گئے روسیوں کی فہرست بھیجی گئی ، جس سے یوزروں کو یہ حوصلہ ہو کہ وہ کون سے روسی لوگ ہیں جن کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔اور جیسے ہی وہ لنک کھولیںگے ویسے اس لنک میں موجود مالویئر ان کے کمپیوٹر اور اس سے جڑے سرور پر حملہ کردے ۔ صرف اتنا ہی نہیں چین اسی حکمت عملی کے تحت کئی یورپی ممالک پر بھی سائبر حملے کر رہا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 