روم: اٹلی کے ایمیلیا۔روماگنا کے علاقے میں جمعرات کو طوفانی بارش میں کمی آنے کے باوجود زیادہ تر علاقے زیر آب رہے۔ مقامی ابلاغی ذرائع کے مطابق نے سیلاب اور زمین کھسکنے و مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد جہاں بڑھ کر کم از کم 13 ہو گئی وہیں دوسرری جانب درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ جمعرات کی ویڈیو فوٹیج میں سانت اگاتا سل سانٹرنو کی کمیون اور ریوینا کے ساحلی قصبے کے کچھ حصوں میں سڑکیں دکھائی دے رہی ہیں۔ ملک کا شمالی وسطی علاقہ جس میں بولوگنا اور موڈینا کے شہر شامل ہیں منگل اور بدھ کو ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا سبب بنے۔ امدادی کارکنوں نے اونچی عمارتوں کی چھتوں اور بالائی منزل سے لوگوں کو نکالنے میں مدد کی۔
محکمہ شہری تحفظ کے مطابق، ایمیلیا۔روماگنا کا زیادہ تر علاقہ جس میں بہت سے دوسرے علاقوں کے کچھ حصے بھی شامل ہیں جمعرات کو بھی بدستور ریڈ الرٹ زونرہا۔۔ محکمہ نے یہ بھی کہا کہ شمالی وسطی اٹلی کے بیشتر حصوں میں ہفتہ کے مقامی وقت کے مطابق کم از کم آدھی رات تک شدید موسمی الرٹ نافذ رہیں گے۔ جمعرات کی سہ پہر 280 سے زائد لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاع ملی تھی۔ 200 سڑکیں زیر آب ہوجانے کے باعث بند تھیں اور 23 ندیاں طغیانی پر تھیں اور ان کا پانی کنارے پھاڑ کر ساحل پر بہہ ہا تھا۔خبروں کے مطابق علاقے کے 10,000 سے زیادہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے اور کئی ہزار افراد بجلی کے بغیر رہے۔ بجلی کی بحالی میں مدد کے لیے تقریباً 700 تکنیکی ماہرین کو علاقے میں بھیجا گیا ہے۔
ایمیلیا-روماگنا خطے کے صدر سٹیفانو بوناکسینی نے جمعرات کو اس علاقے کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ کئی بلین یورو تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ وزیر برائے ماحولیات اور توانائی تحفظ گلبرٹو پچیٹو فریٹن نے کہا کہ حکومت یورپی کمیشن سے یورپی یونین سے فنڈ جاری کرنے کے لیے کہے گی تاکہ خطے میں امداد اور تعمیر نو کی کوششوں میں مدد مل سکے۔ اے این ایس اے نیوز ایجنسی کے مطابق حکومت نے آئندہ منگل کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، جس کے بعد ایمیلیا۔روماگنا میں ایمرجنسی اور مقامی حکام کو ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کا اختیار دینے کا کا اعلان کرنے کی توقع ہے۔
تصویر سوشل میڈیا