اقوام متحدہ : عالمی ادارے اقوام متحدہ میں افغان مشن کے ناظم الامور نصیر اے فائق نے پریس ریلیز میں کہا کہ انہوں نے نیویارک میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی ہے جس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو صرف اور صرف افغان عوام کی بہبود کے لیے محفوظ رکھے۔ فائق نے مزید کہا کہ اس رقم کے اصل مالک افغان عوام ہیں، اور افغان رقم نائن الیون حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کو معاوضے کے طور پر نہیں دی جانی چاہیے۔
بلاشبہ 9/11 کے متاثرین کو انصاف اور مناسب معاوضہ ملنا چاہئے لیکن افغان عوام کو اس کی قیمت نہیں چکاناچاہیے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ اثاثے افغان عوام کی ملکیت ہیں، جو اس کے حقیقی مالک ہیں۔ 9/11 کے حملوں میں کوئی افغان ملوث نہیں تھا، اور اس کے لیے انہیں قانونی یا اخلاقی طور پر ذمہ دار نہیں ٹہرایا جا سکتا۔دریں اثنا، امارت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ افغان رقم کو مکمل طور پر جاری کیا جائے اور افغان عوام کو فراہم کیا جائے۔اسلامی امارات کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ افغانستان کے اثاثہ جات کو بغیر کسی شرط کے جاری کر دیا جانا چاہیے اور افغانستان کو دے دیا جانا چاہیے کیونکہ یہ رقم افغان عوام کا بنیادی حق ہے اور موجودہ حالات میں ہمیں اس کی ضرورت کسی بھی دوسرے وقت سے زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں امارت اسلامیہ کے دوبارہ قیام کے ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے افغانوں کے سات ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے جس پر ملکی اور بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔سیاسی تجزیہ کار احمد منیب رسا نے کہا کہ اگر یہ رقم امریکہ کو دی جاتی ہے تو افغان کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھو دے گی اور اس سے افغان معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔فروری 2022 میں، جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ایک حکم نامے میں 7 بلین ڈالر منجمد افغان رقم میں سے 3.5 بلین ڈالر افغان عوام کو انسانی امداد کے ذریعے عطیہ کرنے کے لیے مختص کیے تھے۔امریکی حکام پہلے کہہ چکے ہیں کہ مزید 3.5 بلین ڈالر کا فیصلہ امریکہ کی ایک عدالت کرے گی۔
تصویر سوشل میڈیا