hina starts evacuating citizens from Ukraineتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: چین کے سرکاری ابلاغی ذرائع نے منگل کے روز کہا کہ چین نے یوکرین میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کو وطن واپس لانا شروع کر دیا کیونکہ ان شہریوں کی سلامتی اور حفاظت کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور روسی حملہ کی مذمت کرنے سے چین کے انکار پر مبینہ طور پر ناراضگی پھیل رہی ہے۔یوکرین کے دارالخلافہ میں واقع چینی سفارت خانے کے حوالے سے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق تقریباً 6000 سے زائد طلبا دوشنبہ کو یوکرین کے دارالخلافہ سے فرار ہوکر جنوبی ساحلی شہر اوڈیسا منتقل ہو چکے ہیں۔وہ سفارت خانہ کے پہرے اور مقامی پولس کی حفاظت میں بذریعہ بس پڑوسی شہر مولدووا منتقل ہو گئے۔ کیف سے انخلا کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ6گھنٹے کا سفر محفوظ اور آرام دہ رہا۔

قبل ازیں موصول رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ چینی شہریوں کے انخلا میں تاخیر پر تنازعہ کے درمیان چین مشرقی یوکرین میں اپنے طلبا کی حفاظت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان مشرقی یوکرین میں اپنے طلبا کو لانے کے لیے چارٹرڈ پروازیں چلانے جیسے متبادل انتظامات پر غور کر رہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین نے ہنگامی رابطہ کاری کا طریقہ کار شروع کیا ہے اور چینی عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہے ۔دریں اثنا چینی سفیر متعین یوکرین فان جیان رونگ نے ایک ویڈیو میں ان افواہوں کو مسترد کر دیا کہ وہ ملک چھوڑکر چین واپس جا چکے ہیں۔ سفارت خانے کے ایک ملازم نے گلوبل ٹائمز کو بتایا، یوکرین کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، ہمیں سب سے پہلے اپنے چینی شہریوں کو یقین دلانا اور ان کے خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے۔سفارتخانے نے کہا کہ وہ فی الحال انخلا کے چارٹر پروازوں کو منظم کرنے سے قاصر ہے کیونکہ انخلا کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ چینی سفارت خانے کے حکام نے کہا کہ فضائی حدود سخت کنٹرول میں ہے اور اسے میزائل حملوں اور بم دھماکوں سے خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاہم وہ متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *