Imran Government's policy of conflict with oppositionتصویر سوشل میڈیا

قادر خان یوسف زئی

تصویر کا دوسرا رخ کیسا ہوگا ، اس پر قبل ازوقت قیاس آرائی تو نہیں کی جاسکتی لیکن یہ رخ ہے کون سا اس پر اظہاریہ بنتا ہے۔تصویر کا دوسرا رخ کیا ہے، اس حوالے سے سوچ و بچار و سیاسی شخصیات کی متلون مزاج کیفیات و اطوار کا جائزہ لینے کے بعد اک مبہم سی صورتحال کا خاکہ بنتا بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیاست میں حرفِ آخر نہیں ہوتا ، لچک اور کچھ دو و لو کے اصولوں کے تحت چلنے والے اس نظام میں کسی بھی وقت ، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ سنجیدہ حلقوں کی جانب سے بارہا کہا جاتا ہے کہ ریاستی اداروں کو اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت زیادہ ہے، ریاستی ستونوں کے ایک ستون میں بھی دراڑ سے پورے نظام کو ہی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے” نقار خانے میں طوطی کی آواز “کا گلہ کرنا بے سود ہے ،کیونکہ موجودہ نظام میں” ڈی جے سسٹم “آگیا ہے ۔ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کی جانب سے پاور شو کے بعد حکومتی غلطیاں ، معاملے کو سنگینی کی طرف لے جا رہی ہیں ، خاص طور پر کراچی جلسے کے بعد جو کچھ ہوا ، وہ ایک ورق پر رہنے والوں کی صفوں میں دراڑ کا باعث بن چکا ہے ،۔ سیاسی پنڈتوں نے قانون نافذ کرنے والوں کو سیاست میں اس طور استعمال کرنے کو نیک شگون قرار نہیں دیا ، وزیراعظم عمرن خان اپنے فیصلوں میں مداخلت میں بے بس ہونے و یوٹرن کے حوالے سے مخصوص شہرت حاصل کرچکے ہیں ، اقتدار کے تخت پر بیٹھنے کی وجہ سے انہیں کئی معاملات میں اپنے ماضی کے کئی دیرینہ اصولی موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا ۔ ماضی میں دیئے گئے بیانات کا اجمالی جائزہ لیں ،تو با آسانی سمجھ میں آجاتا ہے کہ عمران خان ، مروجہ نظام میں تبدیلی کے لئے کثرت سے مصلحت کوشی سے بھی کام لے رہے ہےں۔ بظاہر تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں ، لیکن شخصی بنیادوں پر نظریات و مفادات کا ٹکراﺅ بھی واضح نظر آتا ہے۔پی ٹی آئی کو توقع کے مطابق قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ملی ، جس کا انہیں بھرپور یقین تھا ۔ ہاتھوں میں رسی بندھی ہوئی ہے لیکن وہ اتنی سخت نہیں کہ انہیں تکلیف ہو ، لیکن بے بسی ومکمل خود مختاری کاحاصل نہ ہونا ، عمران خان کی فطری عادت و مزاج کے خلاف ہے۔اقتدار کی مسند پر بیٹھنے سے قبل کے عمران خان کی سوچ ، نظریہ و عملی کاوشیں سمیت بیانات نئے عمران خان سے قطعی مختلف ہیں ، انہیں حکومتی مجبوریوں کا نام بھی دیا جاسکتا ہے ، لیکن یہ اَمر واثق ہے کہ وہ خود کومکمل آزاد تصور نہیں کرتے ۔ کسی انسان کی سوچ مختصر وقت میں تبدیل نہیں ہوتی ، خاص طور مخصوص سوچ و نظریئے پر چلنے والا ، برسوں برس انتہائی کم تعداد میں ہی عوام کو متاثر کرسکا ، لیکن اقتدار کے لئے سمجھوتے پر راضی کیوں کیا ، اب یہ راز مخفی نہیں رہا۔

اپوزیشن ، حزب اقتدار کے تمام فریقوںکو کھلم کھلا چیلنج دے رہی ہے ، جلسے جلوس کی حد تو وقتی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے ، لیکن عوامی رائے کو بدلنا ، جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ اس کے لئے حزب اختلاف کو کڑی محنت کرنا ہوگی ، سیاست اناڑی یا کھلاڑی کا کھیل نہیں کہ جس میں کسی کی ہار و جیت سے فرق نہ پڑتا ہو، بلکہ وطن ِ عزیز کو درپیش چیلنجز میں تمام ریاستی ادارے سہ جہتی حکمت عملی سے کام کرتے ہوئے باریک بینی سے عمل پیرا ہیں۔ بظاہر اس وقت سیاسی طور پر ایسی قیادت کا فقدان پیدا کرنے کا تاثر دیا جارہا ہے کہ مملکت کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی ایسی جماعت نہیں جس پر تیسری مرتبہ اعتماد کیا جاسکے ۔ متبادل قیادت کے فقدان کے نظریئے کو پی ٹی آئی فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہے۔قانون سازی کے اداروں کی بے وقعتی کا ایک ایسا تاثر بھی عوام میں جارہا ہے کہ کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود دو ایوانی پارلیمانی نظام مسائل کا حل تلاش نہیں کرسکتا ، سوا دو برس ہنگامہ آرائیاں اور پارلیمنٹ کو سیاسی پلیٹ فارم بنانے کی روش نے ووٹر کے اعتماد کو مجروح کیا ہے اور صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام سے بہتر قرار دینے کی کوششیں کی جاری ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ماضی کے دھرنے میں دی جانے والی تجویز” ٹیکنو کرٹیس گورنمنٹ “بھی زیر غور ہے۔عمومی رائے جو سامنے آئی ہے کہ موجودہ حکومت کو پارلیمان میں ایسی اکثریت حاصل نہیں جس کی وجہ سے وہ من پسند قوانین بنا سکتے ، بالخصوص سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی کے مرحلے میں حکومتی پسپائی آرڈیننس جاری کرنے سے عیاں ہوجاتی ہے۔ تیسری حکمت عملی بہت حساس نوعیت کی ہے ۔

سیاسی پنڈتوں نے عمران خان کی شخصیت کے جائزے میں اجمالی رائے قائم کی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے تک عمران خان ، کئی معاملات میں مصلحت کے تحت پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے ، اسے دباﺅ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ، تاہم جیسے ہی انہیں سینیٹ میں اکثریت مل جاتی ہے تو وہ اُن قیود کو پھلانگ سکتے ہیں جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ و سیاست دانوں میں تلخی کا سبب بنتی رہی ہے۔ ریاستی اداروں کا ایک ورق پر ہونے کا بیانیہ ، گو کہ اس وقت کمزور ہوچکا ہے اور اس میں واضح دراڑیں دیکھی جاسکتی ہیں ، لیکن فی الوقت سینیٹ انتخابات تک نئے عمران خان کا بیانیہ عملی طور پر اپوزیشن کے لئے زیادہ پریشان کن نظر نہیں آرہا ۔ حزب اختلاف اس وقت جانتی ہے کہ حکومت کو کئی ایسے داخلی و خارجی مسائل درپیش ہیں کہ انہیں مفاہمت کی سیاست کے لئے بیک ڈور چینل ابلاآخراستعمال کرنا ہوں گے ۔ ریاستی اداروں کے خلاف لب کشائی، دشنام طرازی اور الزامات نئی بات نہیں ہے ، لیکن موجودہ دور میں جس طرح کابینہ کے بعض اراکین ،حزبِ اختلاف کے خلاف بیانیہ میں ریاستی اداروں کے خود ساختہ ترجمان بنے ہوئے ہیں ، ان کی وجہ سے ریاستی اداروں کی غیر جانبداری متاثر ہو رہی ہے اورسخت بیان بازیوں سے عالمی سطح پر ریاستی اداروں کا کردار بدقسمتی سے حکومتی ردعمل کی وجہ سے بد نامی کا سبب بن رہا ہے۔ اپوزیشن حکومت” گرانے“ میں کامیاب ہوتی یا نہیں ، اس سے اہم اَمر یہ ہے کہ اپوزیشن کے خلاف حکومتی اقدامات سے ریاستی اداروں و حکومت کے درمیان ایک غیر مرئی دراڑ پیدا ہوچکی ہے۔ یہ دراڑ وقت کے ساتھ گہری ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات کو سینیٹ انتخابات کے فوراََ بعد دیکھا بھی جا سکے گا ۔ ایسے موقعوں کے عموماََ یہی کہا جاتا ہے کہ مملکت اس وقت نازک دور سے گذر رہی ہے۔
ای میل:qadirkhan.afghan@gmail.com
(مضمون نگار پاکستان کے معروف جرنلسٹ ریسرچر،سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *