تہران : ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوبھل کے دورہ ایران کے بعد ہندوستان اور ایران نے ایک مشترکہ بیان میں افغانستان میں انسانی اور اقتصادی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے واضح طور پر افغانستان کی سماجی اور اقتصادی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام گروہوں اور نسلی گروہوں کی شمولیت سے ایک جامع حکومت کے قیام کی حمایت کی۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اجیت دوبھل کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان مستحکم دوطرفہ تعلقات سے افغان مسئلہ سمیت علاقائی خدشات کے حل میں تعمیری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم امارت اسلامیہ کی وزارت اقتصادیات نے کہا کہ اقتصادی چیلنجز افغانستان میں افغان اثاثوں کے منجمد ہونے کی وجہ سے ہے۔ نائب وزیر اقتصادیات عبدا لطیف نظری، نے کہا کہ افغانستان میں معاشی مسائل افغان عوام کے پیسے کو منجمد کرنے اور کچھ طاقتور ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں سے پیدا ہوئے ہیں، لیکن تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ منظم دباؤ کام نہیں کرتا۔
ایک سیاسی تجزیہ کار زلمے افغان یار نے کہاگزشتہ 20 مہینوں کے دوران، افغانستان کی حکومت اور عوام دونوں نے معاشی دباؤ کو محسوس کیا ہے، لیکن ہندوستان اور ایران کا مشترکہ بیان ان کے مفادات کی تشریح پر مبنی ہے تا کہ ۔ افغانستان کی موجودہ حکومت سے متعلق ان کے سیاسی نظریات ہم آہنگ ہو سکیں۔۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر واحد فقیری نے کہا کہ ملک میں ایک جامع حکومت کا قیام ایک ضرورت ہے۔ ایک جامع حکومت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کا مسئلہ بیرونی نہیں، اس کا اندرونی معاملہ ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 