یرو شلم:فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے منگل کی رات غزہ کی پٹی میں اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی قیادت والے فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ۔۔ غزہ میں فلسطینی سیکیورٹی عہدیدارں نے بتایا کہ ساحلی علاقہ میں، جس پر حماس کی حکمرانی ہے، اسرائیلی جاسوس ڈرون اور لڑاکا طیارے منڈلاتے رہے اور پھر شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی اور مغربی غزہ شہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پٹی علاقہ سے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں عسکریت پسندوں کی چوکیوں پر حملے کرنا شروع کیے۔، سکیورٹی حکام نے بتایاکہ غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دریں اثنا فلسطینی عسکریت پسند گروپوں بشمول حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد (پی آئی جے) ) نے جنوبی اسرائیل پر 37 راکٹ اور پروجیکٹائلز فائر کرنے کی ذمہ داری قبول کی ۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ راکٹوں میں سے ایک نے جنوبی اسرائیل کے قصبے سڈروٹ میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس میں ایک چینی ورکر سمیت کم از کم 9 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ اسرائیلی فوج نے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ سے دن بھر کم از کم 40 راکٹ فائر کیے گئے اور رات کے وقت بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے ٹینکوں سے غزہ میں گولہ باری کی۔
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا، جہاں راکٹوں کے ممکنہ فوجی ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح ہو کہ پی آئی جے کے ایک سینئر رکن خدر عدنان کی موت کے، جو 86 دنوں تک بھوک ہڑتال کرنے کے بعد اسرائیلی حراست میں انتقال کر گئے تھے، ردعمل میں یہ حملے کیے گئے ۔ اسرائیلی جیل میں عدنان کی موت نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پہلے ہی سے بھڑک رہی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے ۔فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ جنوری کے اوائل سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں تقریباً 100 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے کیے جانے والے حملوں میں 19 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 