Iran calls removal of US sanctions its ‘red line’ for 2015 deal revivalتصویر سوشل میڈیا

دوبئی: ایرن نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پر سے پابندیاں ہٹانے کے لیے امریکہ کو ایک سیاسی فیصلہ لینا ہوگا کیونکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے تمام پابندیاں ہٹائے جانے کا ایران کے مطالبے پر کوئی بات نہیں ہو گی۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے اپنی ہفت روزہ بریفنگ میں کہا کہ ایران کا یہ مطالبہ مذاکرت میں ایران کی سرخ لکیر ہے۔

ایرن نے امریکہ سے اس بات کی بھی ضمانت چاہی کہ وہ مزید سنگین پابندیاں عائد نہیں کرے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کو اس سے فائدہ پہنچنے کا معاملہ مذاکرات میں ایران کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔لہٰذا کسی معاہدے تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب امریکہ پابندیوں کو ہٹانے کا فیصلہ کرے اور مخصوص ایجنڈا لے کر ویانا مذاکرات میں واپس آئے۔

واضح ہو کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کے ساتھ 2015 کے بین الاقوامی جوہری معاہدے پر امریکا اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات کے حتمی مراحل میں داخل ہونے کے پیش نظر جمعہ کو ایران پر بین الاقوامی جوہری تعاون کے منصوبوں کی اجازت دینے کے لیے پابندیوں میں استثنیٰ کو بحال کرایا تھا ۔لیکن خطیب زادے نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جو قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اس کا جس کا ایران کی معاشی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *