Iran executes man over nationwide protestsتصویر سوشل میڈیا

تہران: مہسا امینی کی حراستی موت کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے والے ایک ایرانی نوجوان کو تہران میں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اوبا سیج ملیشیا کے ایک اہلکار کو زخمی کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔اس نوجوان کی شناخت 23سالہ محسن شیکاری کے طور پر کی گئی ہے۔ ملک کی عدلیہ کی زیر نگرانی کام کرنے والی میزان نیوز ایجنسی کے مطابق محسن شیکاری نامی اس شخص پر تہران میں ایک سڑک کو روکنے اور باسیج ملیشیا کے ایک کا رکن کو خنجر گھونپ کر زخمی کر دینے کا الزام تھا۔ وہ ان 11 مظاہرین میں سے ایک ہے جنہیں حکومت نے اب تک موت کی سزا سنائی ہے۔

اسے جمعرات کو صبح پھانسی دی گئی۔اس پر الزام تھا کہ وہ25ستمبر کو ٹہراان کی ستار خان سڑک بند کرنے والوں میں پیش پیش تھا۔ اس پر یکم نومبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے خلاف شیکاری نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا جس نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔پھانسی دینے کا اعلان اس ایک ہفتے کے دوران کیا گیا جس میں ایران کے 50 سے زیادہ شہروں میں کاروباری ادارے، دکانیں اور روایتی بازار کئی عشروں کے دوران ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی عام ہڑتال میں شریک ہوئے۔یہ عام ہڑتال 1979 سے جاری مطلق العنان حکومت کے خاتمے کے مطالبہ پر زور ڈاالنے کے لیے کیے جانے والے مظاہروں کی حمایت میں کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *