دوبئی: ایک ایرانی خاتون شطرنج کھلاڑی سارہ خادم الماتی نے حجاب کے بغیر بین الاقوامی شطرنج ٹورنامنٹ میں حصہ لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے متعدد مقابلوں میں حجاب اوڑھے بغیر کسی خاتون کھلاڑی کا شرکت کرنے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے ۔ واضح ہوکہ 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی، جسے حجاب کے بغیر اپنے والدین کے ساتھ تہران کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے اخلاقی پولس نے گرفتار کر لیا تھا ، پولیس حراست میں موت کے بعد سے ستمبر کے وسط سے علما کی قیادت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
ایرانی خبر رساں اداروں خبرورزیشی اور اعتماد نے پیر کے روز اپنی خبروں میں کہا کہ سارہ خادم الماتی نے قازقستان میں ہونے والی ایف آئی ڈی ای ورلڈ ریپڈ اینڈ بلٹز شطرنج چیمپین شپ میں حجاب کے بغیر حصہ لیا ۔جبکہ لباس کے حوالے سے ایران کے سخت ضابطوں کے تحت سر پر اسکارف پہننا لازمی ہے۔ دونوں میڈیا گھرانوں سے جاری کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے دوران سر پر اسکارف پہنے بغیر شطرنج کھیل رہی ہیں۔ خبرورزیشی نے سر پر اسکارف پہنے اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی لیکن کیپشن میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ آیا یہ اسی تقریب میں لی گئی تصویر تھی۔ دوسری جانب ٹورنامنٹ یا رپورٹس کے بارے میں خادم الماتی کے انسٹاگرام پیج پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
تصویر سوشل میڈیا 