لاہور:(اے یو ایس )قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے حال ہی میں پی ٹی آئی کو ایک تازہ خط تحریر کیا ہے جس میں ان کے اراکین اسمبلی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپریل میں دیے گئے استعفوں کی تصدیق کے لیے انفرادی طور پر آئیں، لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی تجویز پر ان استعفوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنے اراکین اسمبلی کو اسپیکر کے سامنے ’ایک گروپ میں‘ پیش ہونے کی ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی 28 دسمبر کو اپنے استعفے منظور کرانے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس جائیں گے۔
اسپیکر نے پارٹی سے پہلے ہی پوچھا تھا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے رول 43 کے مطابق انہیں پارٹی کے چیئرمین عمران خان سمیت 127 اراکین قومی اسمبلی سے انفرادی طور پر ملاقات کرنی تھی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انہوں نے استعفے آزادانہ اور کسی دباو¿ کے بغیر دیے ہیں یا نہیں۔قومی اسمبلی کے اسپیکر نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو خط لکھا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو انفرادی طور پر استعفوں کی تصدیق کے لیے بھیجیں۔دریں اثنا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اتوار کو ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں شاہ محمود قریشی کو یاد دہانی کرائی گئی کہ ایم این ایز کو انفرادی طور پر پیش ہونا چاہیے۔
پریس ریلیز میں رول 43 کا بھی تذکرہ کیا گیا جو قانون سازوں کے استعفوں سے متعلق ہے اور کہتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 64(1) کے تحت ایک رکن قومی اسمبلی اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے لکھ کر دے گا کہ اگر وہ ذاتی طور پر استعفیٰ اسپیکر کو دیتا ہے تو اپنی نشست سے مستعفی ہوجائے گا اور انہیں یہ مطلع کرے گا کہ استعفیٰ رضاکارانہ اور حقیقی ہے اور اسپیکر کے پاس اس کے برعکس کوئی معلومات یا علم نہیں ہے۔ مخلوط حکومت ’دباو¿ میں‘ ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے اسپیکر کو استعفے قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، پی ٹی آئی نے غیر ارادی طور یہ فیصلہ کر کے اس حوالے سے حکومت کو بہانہ فراہم کیا ہے کہ اس کے اراکین اسمبلی انفرادی حیثیت میں اسپیکر کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔
تصویر سوشل میڈیا 