Iraqi Leaders Vow to Move Ahead after Sadr MPs Quit Parliamentتصویر سوشل میڈیا

بغداد: عراق میں طویل سیاسی تعطل کے دوران پارلیمنٹ میں سب سے بڑی اکثریت والی پارٹی الصدر تحریک کے قائد مقتدی الصدر کی ہدایت پر پارٹی کے تمام ارکین کے اجتماعی استعفے کے بعد ایران حمایت یافتہ عراقی رہنماؤں نے حکومت سازی کی کوششیں کرنے کی جانب پیش رفت کرنے کا عزم کیا۔

اگرچہ شیعہ عالم مقتدی الصدر کی پارٹی کے 73اراکین پارلیماں کے استعفے سے ملک میں ایک نیا سیاسی بحران اور خلا پیدا ہو گیا ہے اور حکومت سازی کے لیے مذاکرات مزید غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہو گئے ہیں اس کے باوجود ایرانی حمایت یافتہ گروپ حکومت سازی کی دعویداری کررہا ہے کیونکہ عراقی قانون کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ اس گروپ کو پارلیمنٹ میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

واضح ہو کہ2005کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ مقتدی الصدر کی پارٹی پارلیمنٹ سے باہر ہے۔ 329نشستوں والی پارلیمنٹ کے لیے اکتوبر میں ہوئے انتخابات میں الصدر 73سیٹوں کے ساتھ بڑے فاتح کے طور پر پارلیمنٹ میں داخل ہوئے تھے ۔اور ایران حمایت یافتہ گروپ نے دو تہائی سیٹیں ہارجانے کے باعث نتائج کو مسترد کر دیا تھا۔اس وقت سے ہی دونوں پارٹیوں میں زبردست ٹھن گئی تھی۔

لیکن اب الصدر کی پارٹی کے اراکین کے مستعفی ہوجانے سے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو سکتی ہے اور ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی مخلوط حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے کیونکہ قانون کے مطابق اگر کسی رکن اپرلیماں کے استعفے سے سیٹ خالی ہوتی ہےتو ہارنے والے امیدواروں میں سے سب سے زیادہ ووٹ پاکر دوسری پوزیشن پر رہنے والا امیدوار اس خالی نشست کا مستحق قرار دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *