کابل:امارت اسلامیہ افغانستان نے اٹارنی جنرل کا دفتر ( اے جی او) کو تحلیل کر دیا ہے۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طلوع نیوز کو بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس کو حکمناموں اور جاری فرامین پر عمل آوری کی نگرانی اور سزا کے ڈائریکٹوریٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس ادارے کے کچھ اختیارات عدالتوں اور ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سپرد کر دیے گئے ہیں ۔ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اے جی او کو ختم کرنے کا مقصد محکموں کی بھرمار روکنا ہے۔
مجاہد نے مزید کہا کہ حکمناموں اور جاری فرامین پر عمل آوری کی نگرانی اور سزا کا ڈائریکٹوریٹ سرکاری اور نجی دونوں اداروں میں امارت اسلامیہ کے قائد کے احکامات پر عمل آوری پر نظر رکھے گا۔بہت زیادہ بیوروکریسی سے گریز کیا جائے اسی لیے خفیہ ایجنسیوں کے پاس بھی نگرانی کا اختیار ہے اور وہ اس پر نظر رکھ سکتے ہیں کہ آیا احکامات پر عمل آوری کی جا رہی ہے یا نہیں۔ مجاہد نے کہا کہ دوئم یہ کہ عدالتوں میں اگر وہاں لوگوں کا کوئی متنازعہ کیس ہے، اسے وکلا دیکھیں گے اور اگر سسٹم کے اپنے تنازعات ہیں توجو راستہ بہتر طریقے سے اسے طے کر سکے گاوہ انہی چینلز کے ذریعے کارروائی آگے بڑھائے گا ۔
امارت اسلامیہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ادارے کا حیطہ اختیار ملک کے 34 صوبوں پر ہوگا۔ اگرچہ اس کا ڈھانچہ اور طریقہ کار دونوں بدل گئے ہیں لیکن عملہ وہی ہے جو اٹارنی جنرل کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ امارت اسلامیہ کے رہنما کے فیصلے کے مطابق قانونی چارہ جوئی اور فوجداری مقدمات کی تحقیقات اور نگرانی کی ذمہ داری اور مراحل عدالتوں اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کو سونپ دیے گئے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 