US envoy Kerry says climate cooperation could redefine US-China tiesتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن(اے یو ایس )ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق امریکہ کے ایلچی جان کیری نے پیر کے روز اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ بیجنگ میں بات چیت کا آغاز کیا۔ ان کا دورہ، امریکہ کی جانب سے، چین کے ساتھ تائیوان، انسانی حقوق اورخطے کے علاقوں پر چین کےدعوے کے باعث کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سنہوا نے بتایا ہے کہ کیری نے شیا شینہووا کے ساتھ پہلی مرتبہ آمنے سامنے بات چیت کی ہے۔ دنیا کے دو ایسے ملکوں کے نمائندوں کے درمیان، جو فضائی آلودگی کے بڑے ذمے دار سمجھے جاتے ہیں، اس موضوع پر تقریباً ایک سال کے وقفے کے بعد پہلی بار گفتگو ہورہی ہے۔

چین دنیا میں کوئلہ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ وہ مسلسل نئے پلانٹ تعمیر کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شمسی اور ہوا کی توانائی جیسے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع بھی استعمال کر رہا ہے۔اس کے باوجود کانگریس میں ریپبلکنزنے کیری کے اس دورے پر سوال اٹھائے اور بعض اوقات ماحولیاتی تبدیلی کے سائنسی طور پر بیان کیے گئے حقائق کو بھی چیلنج کیا۔چین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2030 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج مطلوبہ سطح پر لے آئے گا اور 2060 تک ملک کو کاربن سے بالکل پاک کردے گا۔ جبکہ امریکہ اور یورپی یونین نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کمی کے اہداف مقرر کرے۔

چین میں پچھلے ہفتے مسلسل نویں دن درجہ حرارت 95 ڈگری فارن ہائیٹ سے تجاوز کر گیا، جبکہ بدھ کو درجہ حرارت 106 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچنے کے بعد شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ دھوپ میں نہ نکلیںتوقع ہے کہ کیری چین کو کوئلے پر انحصار کم کرنے اور میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اہداف مقرر کرنےکے لیے کہیں گے جو کر? ارض کا درجہ حرارت بڑھانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔امریکہ اور یورپ کے ساتھ چین میں بھی اس سال درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے فصلوں کو خطرات لاحق ہوئے اور شدید گرمی سے بچنے کے لیے سرد جنگ کے زمانے کے بم شیلٹر لوگوں کے بچاو¿ کے لیے کھولنے پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *