افغانستان میں خواتین کے انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے، وزارت خارجہ نے کہا کہ اسلامی امارات ایک قابل قبول مذہبی و ثقافتی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کی پابند عہد ہے۔ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلواومتی کونسل کے خدشات غیر حقیقی ہیں اور امارت اسلامیہ اسلامی تعلیمات کے دائرہ کار میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وارت کے بیان میں ملک میں حجاب کی پابندی کے حکم کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ افغانستان کے لوگوں پر کوئی ایسی چیز نہیں تھوپی گئی جو اسلامی برادری کے مذہبی اور ثقافتی عقائد سے متصادم ہو۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ اقوام کی مذہبی آزادی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے، اور دنیا سے توقع رکھتی ہے کہ وہ معاشرے کے حقائق کا صحیح ادراک رکھتے ہوئے افغان عوام کی مذہبی اور ثقافتی اقدار کا احترام کرے۔
بیان میں وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان کے بینکنگ اور مالیاتی نظام کو بحال کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور ایک بار پھر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو غیر مشروط طور پر جاری کرے۔یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کو ایک بیان جاری کیا جس میں امارت اسلامیہ سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کی اپنی پالیسیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیاتھا ۔اعلامیے میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کے گرتے ہوئے احترام پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے امارت اسلامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ درجہ ششم سے دوازدہم تک کی طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان پر اسکول کے دروازے دوبارہ کھول دیے جائیں۔
تصویر سوشل میڈیا 