ناقوررہ: امریکہ کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان نےبحری سرحدی معاہدے پر دستخط کر دیے جس سے ابھی تک متحارب رہے ان دونوں پڑوسی ممالک کے لیے منفعت بخش آف شور گیس ذخائر کی تلاش کی راہ ہموا ہو جائے گی۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اس تاریخی معاہدے کو سراہا ہے کیونکہ مغربی ممالک ر وس سے گیس میں کٹوتی کے باعث اس پر انحصار اور اپنے یہاں گیس کی قلت کم کرنے اور نئی توانائی پیداوار کرنے کے لیے اس قسم کا معاہدہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔اس معاہدے پر دونوں ممالک کے سربراہوں نے اپنے ملک کے دارالحکومت میں ہی دستخط کیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ نے یروشلم میں اور لبنان کے صدر مشل عون نے بیروت میں الگ الگ فائل پر دستخط کر کے فائلیں ایک دوسرے کے حوالے کر دیں جس کے بعد معاہدے پر باقاعدہ نفاذ شروع ہو گیا۔ لبنان کے حزب اللہ گروپ نے، جو روز اول سے ہی اسرائیل کا دشمن ہے، معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے اسرائیل پر مہینوں تک حملے کی دھمکی دینے کے بعدکہا تھا کہ اگر وہ سرحد پر غیر ملکی گیس کے ذخائر تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ اسرائیل کے خلاف اپنی غیر معمولی کارروائی کو ختم کر دے گا۔ اس کے ساتھ ہی حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ہمارا مشن مکمل ہو گیا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 