Kabul residents say armed robberies are increasingتصویر سوشل میڈیا

کابل :افغان دارلحکومت کے بیشتر رہائشیوں نے کابل کے کچھ علاقوں میں غیر ذمہ دار مسلح افراد کے ذریعہ لوٹ پاٹ اور رہزنی کی وارداتوں میں اضافے پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے امارت اسلامیہ سے کہا کہ وہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔ کابل کے ایک رہائشی محمد زبیر نے کہا کہ ہر کوئی امارت اسلامیہ کے نام اور وردی کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ وہ جہاں چاہتے ہیں لوگوں کو روک لیتے ہیں اور اسلحہ کے زور پر لوٹ لیتے ہیں۔ کابل کے ایک اور رہائشی جاوید نے کہا کہ ہم امارت اسلامیہ سے سیکورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ڈکیتیوں اور کاروں کی چوری کی وارداتوں پر قابو پایاجائے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب صوبہ نورستان کے سابق گورنر محمد عمر شیرزاد نے کہاکہ امارت اسلامیہ کی افواج کی وردی پہنے کئی مسلح افراد پانچ روز قبل دوپہر ڈیڑھ بجے کابل کے پی ڈی 5علاقہ کے خوشحال خان مینا میں واقع ہمارے گھر پر آئے اور خود کو پی ڈی 5کا طالبان بتایا اور میری بکتر بند گاڑی ، جس کے لیے میرے پاس قومی سلامتی کا کارڈ تھا،لے گئے ۔

شیر زاد کے رشتہ دار نذیف اللہ نے کہا کہ وہ اسلحہ کے ساتھ زبردستی گھر میں داخل ہوئے، اور کہا کہ انہیں گاڑی کی چابیاں دو ورنہ وہ گولی مار دیں گے۔ انہوں نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گاڑی لے کر چلے گئے۔ تاہم کابل سیکیورٹی کمانڈ نے مسلح ڈکیتیوں میں اضافے کی تردید کی اور کہا کہ گزشتہ ماہ 30 سے زائد غیر ذمہ دار مسلح افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کابل سیکیورٹی کمان کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ نورستان کے سابق گورنر کے ساتھ پیش آئے واقعہ کی تحقیقات جاری ہے، ہمارے پاس گزشتہ ایک ماہ میں مسلح افراد کے خلاف 11 مقدمات درج ہوئے اور اس کی بنیاد پر 31 سماج دشمن عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *