بغداد:عراق نے جنوبی ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہ کو ریل اور سڑکوں کے ذریعے ترکی کی سرحد سے جوڑنے کے لیے 17 بلین ڈالر کے پراجکٹ کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کا مقصد کئی دہائیوں کی جنگ اور بحران میں مبتلا رہنے کے بعد ملکی معیشت کو سدھارنا ہے۔ عراق کی بندرگاہوں کی جنرل کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان الفردوسی کے مطابق عراق کے تیل سے مالا مال جنوبی علاقہ میں واقع گرینڈ فاؤ بندرگاہ کو ترکی سے جوڑنے کے لیے سڑک کی تعمیر نے نہر سویز پر انحصار ختم کرنے کے لیے ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرکے ملک کو ایک راہداری میں بدل دیا ہے۔
انہوں نے رائٹر کو مزید بتایا کہ سڑک تعمیر کرنے کا واحد مقصد صرف سامان کے نقل و حمل یا مسافروں کی آمد و رفت نہیں ہے بلکہ یہ سڑک عراق کے کئی علاقوں کی ترقی کے دروازے کھولتی ہے۔ عراق کی حکومت ایسی تیز رفتار ٹرینوں کا ذہن بنائے ہوئے ہے جو سامان اور مسافروں کو 300 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے مقامی صنعتی مراکز تک لے جائے۔ اس پراجکٹ سے ملک کے موجودہ پرانے اور فرسودہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے نجات حاصل ہو گی۔عراق کی ٹرین سروس اس وقت چند لائنوں پر ٹرینیں چلاتی ہے جس میں ایک تیل سے چلنے والی مال گاڑی اور ایک بغداد سے بصرہ تک چلنے والی مسافر ٹرین شامل ہے جو 500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں 10 سے 12 گھنٹے لیتی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 