Madeleine Albright, first female secretary of state, diesتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن🙁 اے یو ایس ) امریکا کی پہلی خاتون وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ چل بسی ہیں۔ ان کی عمر 84 برس تھی اور وہ ایک عرصے سے سرطان کے مہلک مرض کا شکار تھیں۔البرائٹ خاندان نے بدھ کو ایک بیان میں ان کی موت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے خاندان اور دوستوں کے حصارمیں وفات پائی ہے۔وہ ایک محبت کرنے والی والدہ، دادی اماں ، بہن اور دوست تھیں۔وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی ان تھک چیمپئن تھیں ۔البرائٹ بچپن میں خاندان کے ہمراہ دوسری عالمی جنگ کے دوران میں اپنے آبائی وطن چیکوسلواکیہ سے نازیوں کے مظالم سے جان بچا امریکا پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

سابق صدر بل کلنٹن نے1993 میں اپنا منصب سنبھالنے کے فوری بعد اقوام متحدہ میں البرائیٹ کوامریکا کی سفیر مقرر کیا تھا اور تین سال کے بعد1996 میں انھیں وزیر خارجہ نامزد کیا تھا۔1997 میں سینیٹ 99-0 کے ووٹ سے ان کے تقررکی تصدیق کی تھی۔ ا±س وقت وہ امریکی حکومت کی تاریخ میں کسی اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔مادام البرائیٹ نے چارسال تک سیکریٹری آف اسٹیٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ناٹو کی توسیع اورکوسوو میں فوجی مداخلت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔وزیرخارجہ کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد، وہ جارج ٹاو¿ن یونیورسٹی کے اسکول آف فارن سروس (خارجہ سروس) میں پڑھاتی رہی تھیں اورانھوں نے نیویارک ٹائمز کی سات سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب بھی قلم بندکی تھیں۔2012 میں اس وقت کے صدربراک اوباما نے البرائیٹ کو ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز’میڈل آف فریڈم‘سے نوازا تھا۔

انھوں نے 2020 میں ایلی میگزین کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی اس طرح کی ہوگی“۔ ملازمت کا بہترین تجربہ پوچھے جانے پرانھوں نے کہا:”وزیرخارجہ کی حیثیت سے اس نشان کے پیچھے بیٹھنا بہترین خوش گوارتجربہ تھا جس میں لکھا ہے ریاست ہائے متحدہ امریکا، خاص طور پراس بنا پر جب میں یہاں پیدا نہیں ہوئی تھی اور میں بہت شکرگزار امریکی ہوں۔مادام البرائٹ ایک مدبر،سلجھی ہوئی ،جہاں دیدہ سفارت کار قرار دی جاتی تھیں۔انھوں نے صدر بل کلنٹن کے دور میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے ایسے وقت نمایاں کردارادا کیا تھا جب کلنٹن انتظامیہ 1990 کے عشرے میں عالمی سطح پرخارجہ پالیسی کے دو بڑے بحرانوں؛روانڈا میں نسل کشی اور بوسنیا ہرزی گووینا۔۔ میں ملوث ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی تھی اور ان میں مداخلت سے گریزاں تھی۔انھوں نے تین بیٹیاں اورچھے نواسے،نواسیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ ان کا ایک بھائی اور بہن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *