No issue in sending Afghan soldiers to India for training, says son of Taliban founder Mullah Omarتصویر سوشل میڈیا

نئی دہلی کابل: (اے یو ایس) طالبان کے وزیردفاع ملا یعقوب نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ دفاعی تعلقات بحال کرنے میں ان کی حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونا ضروری ہے۔انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور طالبانی سفیر کو دلی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت دے۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک وفد نے افغانستان کا دورہ کیا اور وہاں کئی اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت بھی کی۔ملایعقوب نے کہااگر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آجائے تو افغان سپاہیوں کو تربیت حاصل کرنے ہندوستان بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ ہماری یہ د خواہش ہے کہ بین الاقوامی برداری طالبان کو تسلیم کرے۔کیونکہ ابھی تک کسی بھی ملک نے افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اسے تسلیم نہیں کیا گیا چنانچہ وہ پاکستان سمیت دنیا کے تمام مسلم ممالک سے خصوصی طور پر اپیل کر رہے ہیں۔ طالبان حامی مبصروں نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے بھی یہ اپیل کی ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے تاکہ افغانستان میں معاشی سرگرمی شروع ہو سکیں، آخر کوئی ملک انسانی بنیاد پر دی جانے امداد پر کتنے دن گزر کر سکتا ہے۔طارق عطا نے کہا کہ ’جہاں تک سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کی بات کہی گئی ہے تو یہ بڑی بات ہوگی کیونکہ پاکستان کو یہ بالکل قابل قبول نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکنیکل قسم کی تربیت تو طالبان سے قبل بھی دی جاتی رہی ہے لیکن باضابطہ سکیورٹی فورسز کی تربیت کچھ زیادہ ہے۔ اور طالبان کی جانب سے یہ کہا جانا حیرت انگیز ہے۔’حال ہی میں وزیرخارجہ مولوی عامر خان متقی نے ہندوستان کے وفد کے ساتھ ملاقات کی اور اس کی قیادت جوائنٹ جے پی سنگھ کررہے تھے۔

اس سے قبل اس نے دوحہ میں طالبان رہنما¶ں سے ملاقات تھی اور گذشتہ دنوں انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا کا افغانستان کے ساتھ خصوصی رشتہ ہے اور وہ برقرار رہے گا۔دوشنبے میں علاقائی سکیورٹی کے متعلق اجلاس ہوا جس میں انڈیا کے علاوہ چین، ایران، قزاقستان، کرغیزستان، روس، ازبکستان اور تاجکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ریاستی سکیورٹی کونسل کے سربراہوں نے شرکت کی تھی۔ہندوستان نے ابھی تک 20 ہزار میٹرک ٹن گندم، 13 ٹن ادویات، کووڈ ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں اور جاڑے کے کپڑے بھیج چکا ہے۔ یہ چیزی کابل میں اندراگاندھی چلڈرن ہسپتال اور ڈبلیو ایچ او اور ڈبلیو ایف پی کو سونپی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *