اسلام آباد:(اے یو ایس ) اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جمعرات کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چودھری کے خلاف متنازع کلمات اداکرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر توہین عدالت کی کارروائی میں فرد رم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور عدامت میں ان کے جواب کو’غیرتسلی بخش قراردیا ہے۔یہ فیصلہ جمعرات کو چیف جسٹس،جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس محسن اخترکیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے دیا۔
اس میں کہاگیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف الزامات دو ہفتے کے بعد طے کیے جائیں گے۔آئی ایچ سی نے 20 اگست کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں ایک عوامی ریلی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چودھری کے خلاف عمران خان کے توہین آمیز اور دھمکی آمیز ریمارکس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔خاتون جج نے بغاوت کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی تھی۔
بدھ کے روز سابق وزیراعظم نے عدالت کی جانب سے اپنے پہلے جواب کوغیرتسلی بخش قرار دینے کے بعد عدالت میں دوسرا جواب جمع کرایا تھا۔ سماعت کے دوران میں آئی ایچ سی کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مشاہدہ کیا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے عدالت کے شوکاز نوٹس کے جوابات عدلیہ کی توہین کا جواز پیش کرتے نظرآتے ہیں اور انھوں نے اپنے بیان پرکوئی ندامت یا افسوس ظاہر نہیں کیا۔عمران کے وکیل حامد خان نے کہا کہ جواز اور وضاحت دینے میں فرق ہے۔ میں یہاں وضاحت دے رہا ہوں۔اس پرجسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ اگر یہ الفاظ سپریم کورٹ یاہائی کورٹ کے جج کے لیے استعمال کیے جاتے تو کیا آپ بھی یہی جواب جمع کراتے؟
تصویر سوشل میڈیا